ایران یورینیم کی افزودگی کو ساٹھ فیصد تک لے جاسکتا ہے، امام خامنہ ای

1

مغربی ملکوں نے ایٹمی معاہدے پر کبھی عمل نہیں کیا عالمی صیہونی ازم کا مسخرہ کہتا ہے کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے نہیں دینگے اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کرلے تو وہ کیا اس کے بڑے بھی ایران کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکتے۔۔۔

تہران (میزان نیوز) ایران کے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایٹمی پروگرام پر ایران ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹائے گا اور ملکی مصلحت اور ضرورت کے مطابق ایٹمی پروگرام کو ترقی دیتا رہے گا، ماہرین کی کونسل مجلس خبرگان رہبری کے سربراہ اور ارکان سے ملاقات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پابندیوں کے خاتمے سے متعلق پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون پر جو ایک اچھا قانون ہے، پوری طرح سے عملدرآمد کرے، آیت اللہ العظمی سید ‏علی خامنہ ای نے ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کے بارے میں امریکہ اور تین یورپی ملکوں کے بیانات کو آمرانہ، غیر منصفانہ اور تہذیب سے عاری قرار دیا، اُنھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پہلے دن سے اور طویل عرصے تک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایٹمی معاہدے پر عمل کرتا آیا ہے جبکہ یہی چار ممالک تھے، جنہوں نے شروع دن سے معاہدے پر عمل نہیں کیا لہذا ان سے ہی باز پرس کی جانا چاہیئے اور انہیں سزا بھی دی جانی چاہیئے، رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ امریکہ کے ایٹمی معاہدے سے نکل جانے اور یورپ کی جانب سے بھی اس کا ساتھ دیئے جانے کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے سے نہیں نکلا بلکہ اس نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں بتدریج کمی کی ہے، اُنھوں نے کہا کہ ایران نے واضح کردیا ہے کہ فریق مقابل کی جانب سے وعدوں کی پاسداری کی صورت میں سارے اقدامات واپس لئے جاسکتے ہیں، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سامراجی زبان کے استعمال کو مغربی ملکوں کیلئے ایرانی عوام میں پائی جانے والی نفرت میں اضافہ کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس درمیان عالمی صیہونی ازم کا مسخرہ مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے نہیں دیں گے، اُنھوں نے کہا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کرلے تو وہ کیا اس کے بڑے بھی ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتے، رہبر انقلاب اسلامی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جو بات ہمیں ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکے ہوئے ہيں وہ اسلامی تعلیمات اور اس کی اساس ہے جس میں عام لوگوں کے قتل کا سبب بننے والے ہتھیاروں، چاہے کیمیائی ہوں یا ایٹمی، کی تیاری کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی ایٹمی بمباری میں دو لاکھ بیس ہزار جاپانیوں کے قتل عام اور اسی طرح یمنی عوام کے محاصرے اور مغربی ملکوں کے جنگی طیاروں کے ذریعے بازاروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر کی جانے والی بمباری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام تو امریکہ اور یورپ کا وتیرہ ہے، اسلامی جمہوریہ ایران اس طریقے کو قبول نہیں کرتا اور اسی لئے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا سوچتا بھی نہیں التبہ ہم ملکی ضرورت کے مطابق ایٹمی توانائی کے حصول پختہ ارادہ رکھتے ہیں، رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ایران یورینیم کی افزودگی صرف بیس فیصد تک محدود نہیں رکھے گا، ہمیں اور ملک کو جس مقدار میں یورینیم افزودہ بنانے کی ضرورت ہوگی انجام دے گا، مثال کے طور پر ایٹمی پروپیلروں اور دیگر کاموں کیلئے ہم یورینیم کی افزودگی کو ساٹھ فیصد تک لے جاسکتے ہیں، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایٹمی معاہدے میں درج افزدگی کی سطح اور مدت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چند برس کا یہ معاہدہ جو طے پایا ہے اگر مغرب نے اس پر عمل کیا تو ہم بھی اس پر مقررہ مدت تک ہی عمل کریں گے، البتہ یورپ والے جانتے ہیں کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتے، رہبر انقلاب اسلامی نے صراحت کے ساتھ کہا کہ ایٹمی ہتھیار ایک بہانہ ہے وہ (مغرب) تو روایتی ہتھیاروں تک بھی ہماری رسائی کے مخالف ہیں کیونکہ وہ ایران کی طاقت کے عناصر کو اس سے چھیننا چاہتے ہیں۔

Share.

About Author

1 Comment

  1. درست فیصلہ ہے امریکہ پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، امریکہ کو پریشانی روس چین ایران اور ترک اتحاد ہے

Leave A Reply