ایران کی پالیسی کامیاب امریکہ ایٹمی معاہدہ میں واپسی کا خواہشمند

0

امریکہ اور 3 یورپی ملکوں کے اجلاس میں سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے اعلان کیا کہ اگر ایران جے سی پی او اے کے تحت اپنے وعدوں پر دوبارہ عمل کرتا ہے تو امریکا بھی یہی کرئیگا اور اس کیلئے ایران کیساتھ مذاکرات میں شمولیت کو تیار ہے۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکا نے کہا ہے کہ وہ سنہ 2015ء کے جوہری معاہدے کی بحالی کیلئے ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے جسے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 سال قبل ترک کردیا تھا، برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ پیش رفت امریکی انتظامیہ میں تبدیلی کی عکاس ہے، جس میں امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے صدر جو بائیڈن کے اس موقف پر زور دیا کہ اگر تہران معاہدے کی مکمل پاسداری کرے تو واشنگٹن اس معاہدے میں دوبارہ شامل ہوجائے گا جسے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کے نام سے جانا جاتا تھا، امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے برطانیہ، فرانس، جرمنی کے وزرائے خارجہ پر مشتمل گروپ ای 3 کے پیرس میں ہونے والے ویڈیو اجلاس کے دوران بتائی، چاروں ملکوں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اگر ایران جے سی پی او اے کے تحت اپنے وعدوں پر دوبارہ سختی سے عمل کرتا ہے تو امریکا بھی یہی کرے گا اور اس سمت میں ایران کے ساتھ بات چیت میں شامل ہونے کو تیار ہے، یاد رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے ایران کی جوہری سرگرمیوں کو محدود رکھنے کیلئے جوہری معاہدہ کیا تھا جس میں یورپی ممالک کے علاوہ روس اور چین بھی شامل تھے تاہم مئی 2018ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی، جس کے تقریباً ایک سال بعد ایران نے معاہدے کے تحت ایٹمی سرگرمیاں شروع کردیں تھیں، جس میں حالیہ مہینوں میں خاصہ اضافہ ہوگیا ہے، ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن یورپی یونین کی جانب سے ایران اور اس معاہدے کیلئے بات چیت کرنے والے 6 ممالک روس، چین، برطانیہ، جرمنی اور امریکا کے مابین بات چیت کے دعوت نامے پر مثبت ردِ عمل دے گا، ایک یورپی یونین عہدیدار نے اس قسم کی بات چیت کے انعقاد کا خیال پیش کیا تھا جس کے جواب میں امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم اس قسم کا اجلاس ہونے کی صورت میں اس میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ کیا ایسا اجلاس کب ہوگا۔

Share.

About Author

Leave A Reply