ایران نے سعودی عرب سے مذاکرات کیلئے رضامندی کا اظہار کردیا

0

ایرانی اسپیکر مطابق ایران اور سعودی عرب مذاکرات سے خطے میں سلامتی اور کئی سیاسی مسائل حل ہوسکتے ہیں سعودی عرب کو امریکا پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ریاض مذاکرات کی ٹیبل پر اپنی تجاویز کو بحث کیلئے پیش کرسکتا ہے۔۔۔

تہران (میزان نیوز) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی ریجانی نے کہا ہے کہ تہران خطے میں اپنے حریف سعودی عرب سے مذاکرات شروع کرنے کیلئے تیار ہے، الجزیرہ کو دیئے گئے انٹرویو میں علی ریجانی کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں سعودی عرب کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے، ایران اور سعودی عرب کے مذاکرات سے خطے کی سلامتی اور کئی سیاسی مسائل حل ہوسکتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کو ملک میں فتح کے طور پر دیکھا جائے گا اور سعودی عرب کو صرف اپنے بڑے اتحادی امریکا پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، علی لاریجانی نے کہا کہ وہ دیکھیں گے کہ ایران کی حکمت عملی کام کررہی ہے، ایران ایک مضبوط فوجی طاقت ہے اور جو ممالک ایران کے دوست نہیں ہیں ان کیلئے عسکری تنازع کے بجائے مذکرات سود مند ہیں، انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے پیشگی شرائط کے بغیر ریاض مذاکرات کی ٹیبل پر اپنی تجاویز کو بحث کیلئے پیش کرسکتا ہے، سعودی عرب کے موقف کو خوش کن قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حوالے سے مذاکرات کی خواہش کا ہم بھی خیر مقدم کرتے ہیں اور یہ جان کر اچھا لگا کہ سعودی عرب سب سے پہلے خطے کا مفاد چاہتا ہے، خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دو روز قبل اپنے ایک بیان میں تیل کی قیمتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی قسم کے تصادم کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ خطہ دنیا کی توانائی میں تقریباً 30 فیصد، عالمی تجارت میں تقریباً 20 فیصد اور دنیا کی جی ڈی پی کا تقریباً 4 فیصد کا شراکت دار ہے، عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے سعودی عرب کے دورے میں فرمان روا شاہ سلمان سے مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں کہا تھا کہ جنگ سے گریز خطے میں ہر کسی کے مفاد میں ہے اور کسی قسم کی افراتفری پورے خطے میں تباہ کردے گا، علی لاریجانی نے یمن کے حوالے سے کہا کہ ایران نے یمن سے مطالبہ کیا تھا کہ سعودی عرب سے جنگ بندی کے کسی معاہدے کو قبول کرلیا جائے اور یہ سعودی عرب کے مفاد میں بھی ہے، یاد رہے کہ یمن میں 2015ء سے سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے خلاف لڑ رہے ہیں جہاں اب تک ہزاروں افراد جاں بحق اور لاکھوں متاثر ہوچکے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply