ـ ایران خلاف مزید کارراوائی ہوئی تو پھر امریکی فوج کو نشانہ بنائیں گے

0

ایران کا کہنا ہے کہ اس کیلئے قاسم سلیمانی کی شہادت کا بدلہ امریکہ کی خطے میں موجودگی کا خاتمہ ہے حشد الشعبی نے بھی امریکہ سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے سلیمانی ایرانی رہبر اعلیٰ امام خامنہ ای بعد ملک کے دوسرے طاقتور ترین فرد تھے۔۔۔

تہران (میزان نیوز) ایران کی فوج کے ایک سینیئر کمانڈر نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے اب کوئی کارروائی کی تو عراق میں امریکی فوج پر حالیہ حملوں کے انداز میں خطے میں موجود امریکی فوج کے خلاف ایک بڑے آپریشن کا آغاز ہوسکتا ہے، پاسدارانِ انقلاب کے ایروسپیس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادے نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کا صرف یہی بہترین انتقام ہوگا کہ خطے سے امریکہ فوج کو نکال دیا جائے، ان کا یہ بیان عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے، دوسری جانب امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر کی ہدایت کے مطابق ہم چوکنا رہیں گے، ایک دوسرے انٹرویو میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکہ کو ایسی خفیہ معلومات حاصل ہو رہی ہیں جن کے مطابق ایران نے اپنی اتحادی کو پیغامات بھیجے ہیں کہ وہ امریکی اثاثوں پر حملے نہ کریں، ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امیر علی حاجی زادے نے کہا کہ ایران سینکڑوں بلکہ ہزاروں میزائل داغنے کیلئے تیار ہے، انھوں نے کہا کہ حالیہ حملے میں 20 سے کم میزائل داغے گئے، انھوں نے کہا ایران کا مقصد امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنا نہیں تھا ورنہ اِس آپریشن کو اِس طرح بھی پلان کیا جا سکتا تھا کہ کم از کم 500 سو امریکی فوجی ہلاک ہوتے اور اگر امریکہ جواب دیتا تو اُس کے مزید ہزاروں فوجی ہلاک ہوتے، اِس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ وہ ایران سے سنجیدگی کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہے، تین جنوری کو بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت اور جواب میں چھ جنوری کی رات ایران کی جانب سے عراق میں دو امریکی اڈوں پر میزائل حملوں کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے، جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ امام سید علی خامنہ ای کے بعد ملک کے دوسرے طاقتور ترین فرد تھے، ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای نے ایران کی جانب سے کی گئی جوابی کارروائی کے بارے میں کہا کہ وہ امریکہ کے منہ پر طمانچہ ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ اس کیلئے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ امریکہ کی خطے میں موجودگی کے خاتمے کے سوا کچھ نہیں، اقوام متحدہ کو لکھے گئے ایک خط میں امریکہ نے جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا امریکی خط میں کہا گیا ہے کہ جنرل سلیمانی کو قتل کرنے کی وجہ امریکہ کی جانب سے دفاعی اقدام تھا، امریکی ایوانِ نمائندگان میں بھی جمعرات کو اس قرارداد پر ووٹنگ بھی متوقع ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی نہیں کر سکتے، امریکی کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کانگریس کے ارکان کو ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے خلاف عسکری اقدامات کرنے کے فیصلے اور مستقبل کے بارے میں کوئی حکمتِ عملی نہ ہونے پر فوری اور شدید خدشات ہیں، امریکی حملے میں شہید ہونے والوں میں جنرل سلیمانی کے علاوہ عراقی ملیشیا کے عہدیداران بھی تھے جس پر عراقی ملیشیا نے بھی امریکہ سے بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے، تاہم امریکی نائب صدر مائیک پینس نے امریکی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس کی اطلاعات کے مطابق ایران نے اب ملیشیا کو امریکی اہداف کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے منع کیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply