ایران خلاف امریکی پابندیوں پر عمل در آمد کرنے کے پابند نہیں، عراق

0

شام کے السوسہ علاقے میں داعشی کمانڈروں کے ٹھکانوں پر عراق کی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے یہ حملے دہشت گردی کے خلاف مہم کے تحت شام کے ساتھ عراق کے تعاون کی بنیا د پر انجام پا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

بغداد (میزان نیوز) عراق کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر عمل در آمد کرنے کا پابند نہیں ہے، عراق کے وزیر خارجہ محمد علی الحکیم نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں یکطرفہ ہیں اس لئے نہ ہی عالمی برادری اور اسی طرح عراق ان پابندیوں پر عمل درآمد  کرنے کا پابند نہیں ہے، عراق کے وزیرخارجہ نے کہا کہ ایران اور عراق کے مابین دینارمیں بھی تجارت کی جاسکتی ہے، واضح رہے کہ اس وقت ایران اورعراق کے مابین تجارتی لین دین کی سطح 12 ارب ڈالر ہے، عراق اور ترکی کے درمیان سیاسی پیشرفت ہوئی ہے، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے انقرہ میں عراق کے صدر برہم صالح کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس میں کہا کہ عراق میں امن و استحکام کا قیام، اس ملک کی ارضی سالمیت کا تحفظ اورعراق کے ساتھ سیاسی اتحاد، ترکی کی بنیادی پالیسیوں میں شامل ہے۔انھوں نے عراق کے ساتھ ترکی کے تجارتی لین دین کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکی، عراق کے ساتھ سولہ ارب ڈالر کے موجودہ تجارتی حجم کو  بیس ارب ڈالر تک نچانا چاہتا ہے۔اس موقع پر عراق کے صدر برہم صالح نے بھی کہا کہ بغداد، عراق میں دہشت گردوں سے آزاد کرائے جانے والے علاقوں کی تعمیر نو میں ترکی کی شراکت کا خیرمقدم کرتا ہے۔واضح رہے کہ عراق کے صدر برہم صالح، جمعرات کو ترکی کے صدر کی دعوت پر انقرہ پہنچے۔ ان کے اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات اور علاقے کی صورت حال کے بارے میں گفتگو کرنا بتایا گیا ہے، اُدھر عراقی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے جمعرات کے روز بھی شام کے السوسہ علاقے میں داعشی کمانڈروں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، شام میں داعشی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر عراق کی فضائیہ کے جنگی طیاروں کے یہ حملے دہشت گردی کے خلاف مہم کے تحت شام کے ساتھ عراق کے تعاون کی بنیا د پر انجام پا رہے ہیں، شامی فوج اس وقت اپنے ملک کے اتحادیوں منجملہ عراق، ایران اور روس کے تعاون و مدد سے شام کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کی کوشش کر رہی ہے، دوسری طرف عراق کی مشترکہ فوجی آپریشن کمان کے ترجمان یحیی رسول نے کہا ہے کہ شام سے باہر نکلنے والے امریکی فوجی پہلے عراقی کردستان کے علاقے اربیل پہنچتے ہیں اور وہاں سے پھر کہیں اور منتقل ہوتے ہیں، انھوں نے کہا کہ عراق میں امریکی فوجی نقل و حرکت کا سلسلہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ عراق کو امریکی فوجیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply