ایران و پاکستان درمیان تعلقات کا فروغ کوئی بھی پابندی حائل نہیں

0

پاکستان کا 10 فیصد چاول براہ راست ایران درآمد کیا جاتا ہے بقیہ بالواسطہ بھیجا جاتا ہے ایران پر پابندی عائد ہیں ہمیں ایسے راستے ڈھونڈنے ہونگے کہ اس مسئلہ سے نکلا جائے تاکہ دونوں ملکوں کا باہمی تجارتی حجم ہر گزرتے سال میں بڑھے۔۔

تہران (میزان نیوز) اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے صنعت و تجارت اور کان کنی نے کہا ہے کہ ایران اور پاکستان تمام بین الاقوامی فورمز اور مختلف شعبوں میں ہمیشہ ایک دوسرے کے حامی رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی اور ثقافتی مشترکات بھی ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر برائے صنعت و تجارت اور کان کنی رضا رحمانی نے ہفتہ کے روز ایران اور پاکستان کے پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے سربراہ سید نوید قمر کیساتھ  ہونے والی ملاقات میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے فروغ کی راہ میں کوئی بھی پابندی حائل نہیں ہے، ایران کے وزیر برائے صنعت و تجارت نے مشترکہ مفادات کیلئے باہمی تعلقات کو بڑھانے اور اس سلسلے میں موجودہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر زور دیا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاک ایران پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے فعال ہونے سے دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے دور ہونے سے پاکستان اور ایران کے تجارتی تعلقات میں مزید اضافہ ہوجائے گا، اس موقع پر پاکستان کے پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کے سربراہ سید نوید قمر نے کہا کہ اسلام آباد، تہران کے ساتھ باہمی تعاون کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹ کو دور کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے تجارتی روابط کا حجم قابل قبول حد تک پہنچ جائے، اس سے قبل اپریل 2019ء میں دورہ تیران میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کا صرف 10 فیصد چاول براہ راست ایران درآمد کیا جاتا ہے بقیہ بالواسطہ بھیجا جاتا ہے، ایران پر پابندی عائد ہیں لیکن ہمیں ایسے راستے ڈھونڈنے ہوں گے کہ اس معاملے میں کچھ بہتری آسکے اور دونوں ملکوں کا باہمی تجارتی حجم ہر گزرتے سال میں بڑھتا رہے، پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات کے حجم کے بارے میں کہا کہ فی الحال دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کا حجم ایک ارب 55 لاکھ ڈالر کا ہے جس میں 20 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن دونوں ملکوں کی صلاحتیوں کے پیش نظر ہم نے ایران اور پاکستان کے تجارتی تعلقات کے حجم کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے قدم اٹھالیا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply