ایرانی سرحد قریب، سعودی اسٹیل مل لگانے کا منصوبہ منظور کر لیا گیا

0

سعودی سرمایہ کاری کیلئے تمام دیگر منصوبوں کا بھی اس ہی معیار کے مطابق انتخاب کیا جائے گا سعودی وفد کا بھی پاکستان کا جلد دورہ متوقع ہے سعودی سرمایہ کاری کیلئے منتخب کیے گئے 4 منصوبوں میں سے ایک چنیوٹ اسٹیل مل بھی شامل ہے۔۔۔

لاہور (میزان نیوز) حکومت کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ ملک کی پہلی مقامی خام لوہے کی اسٹیل مل چنیوٹ میں قائم کی جائے گی، جو سعودی سرمایہ کاری کیلئے منتخب کیے گئے 4 منصوبوں میں سے ایک ہے، واضح رہے کہ پاکستان نے معدنی وسائل میں اقتصادی تعاون کیلئے سعودی عرب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، مفاہمتی یادداشت 20 ارب ڈالر کے معاہدے کا حصہ ہے جس پر توانائی کی پیداوار، ریفائنری، پیٹرو کیمیکل پلانٹ، کھیلوں کے فروغ سمیت مختلف شعبوں کیلئے 17 فروری 2019 کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ اسلام آباد کے دوران دستخط کیے گئے تھے، رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ صوبائی، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبوں میں سے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں 4 منصوبوں کی پیشکش کا انتخاب کیا گیا، اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزادہ سید قاسم نے کی، جس میں متعلقہ وفاقی و صوبائی محکموں کے 24 اراکین نے شرکت کی تھی، اجلاس میں سعودی مفاد کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کے بعد 4 منصوبوں کی ابتدائی فہرست قائم کی گئی، ان منصوبوں میں پنجاب کے علاقے چنیوٹ اور بلوچستان کے علاقے چاغی میں خام لوہے کی اسٹیل مل کا قیام شامل ہے، پنجاب منرل کمپنی، پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ سے مشترکہ طور پر اس حوالے سے منصوبے کی پیشکش تیار کرنے کا کہا گیا، مجوزہ مقامات پر مقامی سطح کے کوئلے کے استعمال کا بھی فیصلہ کیا گیا، فہرست میں دوسرا آئٹم بلوچستان میں بریٹے-لیڈ-زنک منصوبے کی تعمیر اور پروسیسنگ/میٹل ریفائنری قائم کرنا شامل ہے، تھر کوئلے کو گیس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تیسرا انتخاب ہے جس کیلئے سندھ سینرجی ڈپارٹمنٹ سے پیشکش تیار کرنے کیلئے کا کہا گیا ہے، سب سے آخر میں ضلع چاغی میں ریکو ڈک اور سینڈک کے علاوہ دھاتی معدنی ذخائر کی تلاش اور تعمیر شامل ہے، اس کیلئے بلوچستان مائنز اینڈ منرل ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ پیشکش تیار کرے گا، ذرائع کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر 4 منصوبوں کا انتخاب مواقع، مقام، ارضیات، خام مال کی اقسام، کان کے وسائل، کان کی عمر، مائیات، سڑکوں، مواصلات، بجلی کی فراہمی، ماحول، ٹیکسز اور دیگر لیویز، مقامی و بین الاقوامی صارفین تک رسائی، سرمایہ کاری کا حجم اور منافع، منصوبے کا اسٹرکچر اور وفاقی و صوبائی قوانین کے تحت کیا گیا، فیصلہ کیا گیا کہ سعودی سرمایہ کاری کیلئے تمام دیگر منصوبوں کا بھی اس ہی معیار کے مطابق انتخاب کیا جائے گا، ذرائع کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سعودی وفد کا بھی پاکستان کا جلد دورہ متوقع ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply