اوماڑا اور وزیرستان میں مخالفین کا فورسز پر دہشت گرد حملے 15 شہید

0

دونوں حملوں میں مجموعی طور پر 21 افراد ہلاک ہوئے وزیرستان میں حملے کی ذمہ داری قبائلی طالبان نے قبول کی ہے جبکہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر(براس) نے اورماڑہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔۔۔

کوئٹہ/پشاور (میزان نیوز) پاکستان کے دو سورش زدہ صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں میں 15 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 21 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر دیسی ساختہ ریموٹ کنڑول ڈیوائس(آئی ای ڈی) سے حملہ کیا، اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے، طالبان کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا ہے، اس حملے میں فوج کے ایک کیپٹن عمر فاروق سمیت دو نائب صوبیدار، ایک حوالدار، ایک نائیک اور ایک لانس نائیک شہید ہوئے ہیں، دوسرا حملہ صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل اورماڑہ میں آئل اینڈ گیس ڈیولیپمنٹ کمپنی لمیٹڈ(او جی ڈی سی ایل) کے قافلے پر ہوا جس میں ایف سی کے آٹھ سکیورٹی اہلکاروں اور سات سویلین محافظ شہید ہوئے ہیں، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بلوچستان حملے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا یہ واقعہ دشمن عناصر کی بزدلانہ کارروائی ہے، شرپسند عناصر کو ان کے عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے، بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) نے اورماڑہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، بلوچ راجی آجوئی سنگر بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان ریپبلکن گارڈز پر مشتمل مسلح اتحاد ہے، جس کا قیام 2018 میں عمل میں آیا تھا۔

Share.

About Author

Leave A Reply