انڈین سپریم کورٹ کا فیصلہ 134 سال پرانا تنازع ختم ہوگیا، امام بخاری

0

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں بابری مسجد پر دعوے سے پیچھے ہٹنے کی تجویز مسترد کردی مسلم رہنماؤں کے مطابق بابری مسجد کیلئے مختص جگہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔۔۔

ممبئی (میزان نیوز) بھارت کے دارالحکومت دہلی کی جامع مسجد کے امام سید احمد شاہ بخاری نے بابری مسجد معاملے کو مزید آگے نہ بڑھانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی اپیل دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بھارتی نیوز ویب سائٹ دی وائر کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب بھارت میں فرقہ ورانہ کشیدگی کیلئے جگہ نہیں ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ملک قانون اور آئین سے چلتا ہے، 134 سال پرانا تنازع ختم ہوگیا ہے، انہوں نے کہا کہ تہذیب اور بھائی چارے کو دیکھتے ہوئے اب ہمیں مل کر یہ کوشش کرنی ہوگی کہ مستقبل میں ملک کو اس طرح کے تنازع سے نہ گزرنا پڑے، امام سید احمد بخاری کا کہنا تھا کہ ملک کو آئین کے تحت چلانے، قانون پر عمل درآمد برقرار رکھنے، فرقہ ورانہ کشیدگی سے اجتناب کرنے اور سماج کو تقسیم ہونے سے بچانے کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ ہندو مسلمان کی بات بند ہونی چاہیئے اور ملک کو آگے بڑھانے کیلئے سب کو مل کر چلنا چاہیئے، فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل کے بارے میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میری اپنی رائے ہے کہ معاملے کو زیادہ بڑھانا مناسب نہیں، نظرثانی اپیل کیلئے سپریم کورٹ جانا بہتر نہیں، انہوں نے کہا کہ مسلمان برادری پہلے سے کہتی رہی ہے کہ وہ فیصلے کا احترام کرے گی اور اب فیصلہ آنے کے بعد لوگ اس سے متفق ہیں، دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ ہماری امیدوں کے برعکس آیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس شواہد پیش کیے تھے اور شہید کی گئی بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کرنے کی اپنی ذمہ داری کو پوری طرح سے نبھایا تھا، دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد متنازع جگہ پر دعوے سے پیچھے ہٹنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کیلئے مختص جگہ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے، شریعت اس کی اجازت نہیں دیتا۔

Share.

About Author

Leave A Reply