انڈیا میں دو ماہ سے جاری کسان دھرنا، احتجاج میں شدت لانیکا فیصلہ

0

بھارتی حکومت کے زرعی قانون کے خلاف کسانوں کے احتجاج کا سلسلہ دو ماہ سے جاری ہے جو نریندر مودی کی حکومت کیلئے ایک بڑا مسئلہ ہے کسانوں نے نئی دہلی، بنگلور اور ممبئی سمیت کئی شہروں اور ریاستوں میں بھی احتجاج کیا تھا۔۔۔

نئی دہلی (میزان نیوز) بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف مہینوں سے سراپا احتجاج کسانوں نے 23 سے 27 فروری تک اپنے احتجاج میں شدت لانے کا اعلان کردیا ہے، بھارتی کسان گزشتہ دو ماہ سے تین نئے متنازع زرعی قوانین کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج و مظاہرے کررہے ہیں، ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق احتجاج کی قیادت کرنے والے سَمیوکت کسان مورچا (ایس کے ایم) نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ احتجاج کی شدت بڑھانے کے ان کے مجوزہ پروگرام کے تحت 23 فروری پگڈی سَمبھل دِواس، 24 فروری دامن وِرودھی دِواس کے طور پر منائے جائیں گے جن کا مقصد حکومت کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ کسانوں کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیئے اور ان کے خلاف کوئی جابرانہ اقدام نہیں اٹھایا جانا چاہیئے، کسان محاذ نے کہا کہ 6 فروری یووا کسان دواس(نوجوان کسانوں کا دن) اور 27 فروری مزدور ۔ کسان ایکتا دواس(کسانوں ۔ مزدوروں کے اتحاد کا دن) کے طور پر منائے جائیں گے، کسانوں کے رہنما یوگیندرا یادیو کا کہنا تھا کہ حکومت گرفتاریوں، حراست اور مظاہرین کے خلاف مقدمات سمیت تمام جابرانہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور فساد برپا کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ سِنگھو بارڈر پر پہرا دیا جارہا ہے اور وہ کسی بین الاقوامی سرحد کا منظر پیش کر رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ 8 مارچ سے پارلیمنٹ کے اجلاس کی روشنی میں کسان تحریک کو طویل مدت تک چلانے پر غور کیا جائے گا اور ایس کے ایم کے اگلے اجلاس میں حکمت عملی شیئر کی جائے گی، کسان محاذ کے ایک اور رہنما دَرشن پال نے حکومت پر جبر کرنے کا الزام بھی لگایا، انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس کی جانب سے یوم جمہوریہ پر دارالحکومت میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت گرفتار کیے گئے 122 افراد میں سے 32 کو ضمانت مل چکی ہے، خیال رہے کہ بھارت میں حکومت کے زرعی قانون کے خلاف کسانوں کے احتجاج کا سلسلہ دو ماہ سے جاری ہے، جس کو نریندر مودی کی حکومت کیلئے ایک بڑا مسئلہ تصور کیا جارہا ہے، کسانوں نے نئی دہلی، بنگلور اور ممبئی سمیت کئی شہروں کے علاوہ دیگر ریاستوں میں بھی احتجاج کیا تھا۔

Share.

About Author

Leave A Reply