انڈیا محاذ آرائی سے گریز کرئے حماقت کی تو کرارا جواب دیا جائیگا، قریشی

0

پاکستان کے وزیر خارجہ کے مطابق انڈیا نے فروری میں بھی حرکت کی تھی ان کو صحیح وقت پر بڑا مناسب جواب مل گیا تھا ہم اپنی گفتگو سے کوئی اشتعال پیدا نہیں کرنا چاہتے لیکن اگر بھارت نے حماقت کی تو وہ مناسب جواب کا منتظر رہے۔۔۔

پاکستان (میزان نیوز) پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پڑوسی ملک کو کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی حماقت کی تو وہ مناسب کرارا جواب کیلئے تیار رہے، ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت پاکستان یہ ارادہ رکھتی ہے کہ پاکستان کے کاشت کار کو کھاد کی قیمتوں میں بھی ایک خاطر خواہ پیکج دیا جائے اور اندازاً 65 ارب روپے کا یہ پیکج دیا جا رہا ہے جس سے زراعت کے شعبے کو ریلیف ملے گا، انہوں نے کہا کہ کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے بھی کسانوں اور کاشت کاروں کو ریلیف ملے گا، ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بعض اوقات عملی اقدامات الفاظ سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، بھارت نے فروری میں بھی حرکت کی تھی اور ان کو صحیح وقت پر بڑا مناسب جواب مل گیا تھا، انہوں نے کہا کہ ہم اپنی گفتگو سے کوئی اشتعال پیدا نہیں کرنا چاہتے لیکن اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تو وہ مناسب جواب کا منتظر رہے، افغانستان میں پرتشدد واقعات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور پوری دنیا کی خواہش ہے کہ تشدد میں کمی واقع ہو لیکن امن کیلئے ایک سازگار ماحول درکار ہے اور سازگار ماحول اسی وقت بنے گا جب تشدد میں کمی ہوگی اور اس میں صرف طالبان نہیں بلکہ سب کو کردار ادا کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کو یہ اطلاع کرتا رہا ہے کہ کچھ عناصر امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں، ہم افغانستان میں سیاسی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ہمیں امن کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں سے خطرہ ہے، امن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے لوگ کون ہیں، یہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑ دیتا ہوں، وہ ہمارے خطے میں نزدیک ہی ہے، وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں داعش کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور اس کا بھی مقابلہ سب کو مل کر کرنا ہو گا، ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کی قیادت کا رویہ بہت ذمہ دارانہ ہے، وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ہم معاہدے کا احترام کریں گے، انہوں نے کہا کہ اگر صوبے اس بات پر آمادہ ہو جائیں کہ تمام افراد کو ازخود گھر میں یا کسی اور محفوظ مقام پر قرنطینہ کرنے دیا جائے تو ہم پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی رفتار میں اضافہ کردیں گے اور اس معاملے پر صوبوں سے بات چیت جاری ہے، اس موقع پر انہوں نے پیپلز پارٹی کے حوالے سے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بلاول کو کہا تھا کہ پیپلز پارٹی وفاق کی علامت تھی اور اگر آپ صوبائیت کو ہوا دیں گے تو یہ آپ کی پارٹی کے فلسفے کے برعکس ہے، پیپلز پارتی سے وفاق کی خوشبو آیا کرتی تھی اور آپ میں تعصب کی بو نہیں آنی چاہیئے۔

Share.

About Author

Leave A Reply