انڈیا اپنے زیرِ قبضہ کشمیر میں نیا قتل عام کرنیکا ارادہ رکھتا ہے، قریشی

0

انڈیا نے یہ اقدام کشمیریوں کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھایا ہے تو پھر نو دنوں سے کرفیو کیوں مسلط کیا گیا ہے؟ اگر یہ بہتری کے اقدامات ہیں تو عیدالاضحیٰ کے موقع پر انہیں نماز عید ادا کرنے اور قربانی کا فریضہ سر انجام دینے سے کیوں روکا گیا ۔۔۔۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انھوں نے کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو پاکستان کا مؤقف پیش کرنے کیلئے ایک خط لکھا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ سکیورٹی کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کیا جائے اور انڈیا کے حالیہ اقدامات کو زیر بحث لایا جائے، آج میں نے اپنا خط صدر سکیورٹی کونسل کو ارسال کر دیا ہے یہ خط اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے صدر سکیورٹی کونسل کو بھجوا دیا ہے اور ہم نے درخواست کی ہے کہ یہ خط فی الفور سکیورٹی کونسل کے تمام اراکین تک پہنچایا جائے، شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ خط میں پاکستان نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انڈیا کے کشمیر میں حالیہ اقدامات غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہیں، شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ انڈیا اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں نیا قتل عام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس بات کا ذکر انھوں نے اقوام متحدہ کو لکھے خط میں بھی کیا ہے، اگر انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ اس قتل عام کو پاکستان اور کشمیری عوام خاموشی سے برداشت کریں گے تو یہ بھی ان کی غلط فہمی ہے، ویڈیو لنک کے ذریعے جاری کردہ پیغام میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اگر انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کو کچل دے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے، وزیرِ خارجہ نے اپنے پیغام میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ انڈیا نے یہ اقدام اگر کشمیریوں کی فلاح و بہبود کیلئے اٹھایا ہے تو پھر نو دنوں سے وہاں کرفیو کیوں مسلط کیا گیا ہے؟ اگر یہ بہتری کے اقدامات ہیں تو عیدالاضحیٰ کے موقع پر انہیں نماز عید ادا کرنے اور قربانی کا فریضہ سر انجام دینے سے کیوں روکا گیا، شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان اقدامات کو کشمیری عوام بھی تسلیم نہیں کرتے اور انڈیا کے اندر بھی بہت سے آوازیں ان کے خلاف اٹھ رہی ہیں، ایسے آرٹیکل لکھے جا رہے ہیں جو مودی سرکار کے ان اقدامات کو بھی ہٹلر کی سوچ سے منسلک کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں فاشسٹ اور نازی ازم کا دور دہرایا جا رہا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply