انتہا پسند ہندو ورسٹائل اداکار نصیر الدین شاہ کے خلاف سرگرم ہو گئے

0

ہجوم کی جانب سے پولیس اہلکار کے قتل پر نصیرالدین شاہ نے کہا کہ گائے کو ذبح کیے جانے کو پولیس اہلکار کے قتل سے زیادہ اہمیت دی گئی میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو مجھے غدار کہا جارہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔

نئی دہلی (میزان نیوز) بھارتی اداکار نصیر الدین شاہ نے تین روزہ اجمیر لٹریچر فیسٹیول( اے ایل ایف) کے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح کرنا تھا جسے ان کے حالیہ بیان پر انتہا پسند ہندوؤں کے احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا، پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بولی وڈ کے ورسٹائل اور میگا اسٹار اداکار نصیر الدین شاہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں بھارت میں ہجوم کی اشتعال انگیزی اور تشدد سے متعلق بیان دیا تھا جس پر دائیں بازو کے ہندو گروہوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا، نصیر الدین شاہ نے رواں ماہ کے آغاز میں ہجوم کے بڑے شہروں میں پولیس اہلکار کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک گائے کو ذبح کیے جانے کو پولیس اہلکار کے قتل سے زیادہ اہمیت دی گئی تھی، اس بیان کی وجہ سے بھارتی اداکار کو انتہا پسند ہندوؤں نے مسلم اداکار کے خلاف محاذ بنالیا، نصیر الدین شاہ نے لٹریچر فیسٹیول سے خصوصی خطاب کرنا تھا،

اس سے قبل انہوں نے اپنی مادر علمی سینٹ اینسلمز سینئر سیکنڈری اسکول کے دورہ کیا تھا جہاں ان سے حالیہ بیان پر سوشل میڈیا پر کی جانے والی تنقید سے متعلق سوال کیا گیا تھا، اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو میں نے کہا وہ صرف ایک پریشان بھارتی ہونے کی حیثیت سے کہا میں اس سے قبل بھی ایسا کہہ چکا ہوں، اس مرتبہ میں نے ایسا کیا کہہ دیا جو مجھے غدار کہا جارہا ہے؟ یہ بہت عجیب ہے، تاہم فیسٹیول کے آغاز سے قبل ہونے والے احتجاج کی وجہ سے نصیر الدین شاہ کی کتاب کی تقریب رونمائی بھی منسوخ کردی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ مجھے تنقید برداشت کرنی ہے، اگر ان کے پاس تنقید کرنے کا حق ہے تو پھر مجھے بھی یہ حق حاصل ہے، میں اس ملک سے متعلق تشویش کا اظہار کررہا ہوں جس سے مجھے محبت ہے، جو ملک میرا گھر ہے، یہ ایک جرم کیسے ہوسکتا ہے؟ انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے بچوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا تھا جنہیں کسی خاص مذہب کی تعلیم نہیں دی گئی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ کل اگر کوئی ان کے بچوں کا راستہ روک کر ان سے پوچھے کہ وہ مسلمان ہیں یا ہندو تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا، نصیر الدین شاہ نے کہا تھا کہ بھارت میں نفرت کا زہر پھیل چکا ہے اور اس جن کو قابو کرکے بوتل میں واپس ڈالنا بہت مشکل ہوگا۔

Share.

About Author

Leave A Reply