امریکی کوششیں ناکام ہوئیں، برطانیہ کو ایرانی تیل بردار ٹینکر چھوڑنیکا حکم

0

جبرالٹر کے وزیراعلیٰ فیبین پیکارڈو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کروائی کہ گریس ون یورپین یونین کی پابندیوں والے ممالک کیلئے نہیں جائے گا، لہٰذا اب اس کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی کہ جہاز کو قبضے میں رکھا جائے۔۔۔

لندن (میزان نیوز) جبرالٹر کی سپریم کورٹ نے امریکی کوششوں کے باوجود ایران کے تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کا فیصلہ سنا دیا، فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی پر شام میں تیل بھیجنے کے شبہ میں ایرانی آئل ٹینکر کو برطانیہ نے قبضے میں لیا تھا، عدالت میں فیصلہ سناتے وقت چیف جسٹس انتھنی ڈیوڈلے کا کہنا تھا کہ گریس ون کو مزید قبضے میں رکھنے کا جواز نہیں بنتا، یہ فیصلہ اس وقت آیا جب برطانوی زیر کنٹرول جبرالٹر کی حکومت نے کہا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے اس بات کی تحریری یقین دہانی کروائی گئی ہے، جبرالٹر کے وزیراعلیٰ فیبین پیکارڈو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کروائی کہ گریس ون یورپین یونین کی پابندیوں والے ممالک کیلئے نہیں جائے گا، لہٰذا اب اس کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی کہ جہاز کو قبضے میں رکھا جائے، عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے اعلان سے قبل امریکا کی جانب سے آخری لمحات میں برطانوی سمندر پار علاقے جبرالٹر سے قانونی طریقے سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اس جہاز کو قبضے میں رکھے، امریکا کی یہ درخواست جہاز کی قسمت سے متعلق عدالتی فیصلے کو موخر کرسکتی تھی تاہم جج ڈیوڈلے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انہیں امریکا کی جانب سے کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی، تاہم امریکا، جبرالٹر کے پانیوں کو چھوڑنے سے قبل ایرانی تیل بردار جہاز کے قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے ایک اور درخواست دائر کرسکتا ہے، واضح رہے کہ 4 جولائی کو جبرالٹر پولیس اور برطانوی اسپیشل فورسز نے 21 لاکھ بیرل ایرانی تیل لے جانے والے جہاز گریس ون کو قبضے میں لے لیا تھا، جس کے بعد ایک سفارتی محاذ شروع ہوگیا تھا، ایرانی جہاز کو مبینہ طور پر جنگ زدہ ملک شام میں خام تیل لے جانے کے شبہ میں قبضے میں لیا گیا تھا کیونکہ یہ عمل یورپی یونین اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی تھی، تاہم اس پر جوابی ردعمل دیتے ہوئے 19 جولائی کو آبنائے ہرمز میں برطانوی جہاز اسٹینا امپیرو کو قبضے میں لے لیا گیا تھا، دوسری جانب تہران نے اپنے جہاز کے قبضے کو چوری قرار دیا تھا اور مسلسل گریس ون کو چھوڑنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا جارہا تھا کہ یہ تیل بردار جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھا اور یہ شام کی طرف نہیں جارہا تھا جبکہ حکام کا ماننا تھا کہ برطانیہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشارے پر جہاز کو قبضے میں لیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply