نو منتخب امریکی صدر کا ایران، کیساتھ ایٹمی معاہدے میں واپسی کا عزم

0

جوبائیڈن اور انکی نیشنل سکیورٹی ٹیم کا خیال ہے جیسے ہی ایٹمی معاہدے کے دونوں فریقوں یعنی تہران اور واشنگٹن کی جانب سے اس معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد شروع ہو ویسے ہی ایران میں نیوکلیئر فیوژن میں کی تیاری کی مہلت بڑھانے پر مذاکرات ہوں۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکہ کے منتخب صدر جو بائیڈن نے ایک بار پھر ایران کیساتھ کئے گئے جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ملکی پالیسی میں تبدیلی کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم اسے ایک مشکل کام بھی قرار دیا ہے، جسے انجام دینا بائیڈن کا انتخابی وعدہ ہے، جوبائیڈن نے نیویارک ٹائمز کے معروف صحافی تھامس فریڈ مین کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ایٹمی معاہدے میں واپسی کے عنوان سے تیرہ ستمبر کو سی این این کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مقالے کے بارے میں گفتگو کی ہے، بائیڈن نے مذکورہ مقالے میں دعویٰ کیا تھا کہ اگر ایران ایٹمی معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد شروع کردے تو امریکہ بھی اس معاہدے میں واپس آجائے گا اور تہران کے خلاف عائد پابندیاں ہٹالی جائیں گی، جوبائیڈن اور ان کی نیشنل سکیورٹی ٹیم کا خیال ہے کہ جیسے ہی ایٹمی معاہدے کے دونوں فریقوں یعنی تہران اور واشنگٹن کی جانب سے اس معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد شروع ہو، ویسے ہی ایران میں نیوکلیئر فیوژن میں استعمال ہونے والے مواد کی تیاری کی مہلت بڑھانے اور تہران کے علاقائی کردار کے بارے میں فریقین کے درمیان مختصر مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جانا چاہیئے، دوسری جانب فرانسیسی وزارت خارجہ نے یورپی ملکوں کی جانب سے جامع ایٹمی معاہدے کے حوالے سے کی جانے والے عہد شکنی کی طرف کوئی اشارہ کیے بغیر دعوی کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے امریکہ کی آئندہ حکومت کی نظرثانی کیلئے ایران کا ایٹمی معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد شروع کرنا ضروری ہے، العربیہ ٹیلی ویژن سے انٹرویو میں فرانسیسی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے ایٹمی معاہدے کا دائرہ وسیع کرنے اور اس میں نئی شقوں کے اضافے کی ضرورت ہے، برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی ٹرائیکا نے امریکی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی کے بعد اس معاہدے کے تحت ایران کے اقتصادی مفادات پورے کرنے کا وعدہ کیا تھا، مذکورہ ممالک نے ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کی زبانی اور سیاسی حمایت میں بڑھ چڑھ کر بیانات ضرور جاری کئے لیکن اس معاہدے کو باقی رکھنے کیلئے کوئی عملی اقدام انجام نہیں دیا، اسلامی جمہوریہ ایران نے یورپی ملکوں کی عہد شکنی کے جواب میں ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں بتدریج کمی کا آغاز کیا تھا جس پر پانچ مرحلوں میں عملدرآمد کیا گیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply