امریکی سینیٹرز عرب امارات کو ایف 35 طیاروں کی فروخت کے مخالف

0

امریکا کے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے یو اے ای کی جانب سے اسلحہ فروخت کی شرائط کی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کو بحیثیت اتحادی فروخت کردہ امریکی اسلحہ جنگ زدہ ممالک لیبیا اور یمن سے برآمد ہوا ہے۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکہ کے تین سینیٹرز نے متحدہ عرب امارات کو ٹاپ آف دی لائن ایف-35 جیٹ طیاروں کی فروخت روکنے کیلئے مہم کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر یو اے ای کیلئے تحفہ سمجھے جانے والے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کردیا، اگر تینوں سینیٹرز 23 ارب ڈالر کے پیکیج کی مخالفت کرنے کیلئے کانگریس میں اکثریت کو راضی کر بھی لیں تو انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حاصل ویٹو کے اختیار کی پہاڑ جیسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا، واضح رہے کہ یو اے ای کی جانب سے اسرائیل کو غاصب ریاست سے جائز ریاست تسلیم کرنے کے باوجود امریکی ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کا مخالف ہے، امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کے قریبی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے یو اے ای کی جانب سے اسلحہ فروخت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کی رپورٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کو بحیثیت اتحادی فروخت کردہ امریکی اسلحہ جنگ زدہ ممالک لیبیا اور یمن سے برآمد ہوئے تھے، کرس مرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت کرتا ہوں تاہم امریکہ خطے میں مزید اسلحے کا سیلاب لائے درست نہیں ہے اور اسلحے کی ایک خطرناک دوڑ میں سہولت کار بنیں، انہوں نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے اعلیٰ ڈیموکریٹ رابرٹ مینینڈیز اور ری پبلیکن رینڈ پال کے ساتھ قرارداد پیش کی جو عام طور پر ٹرمپ کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، امریکا کے سکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے گزشتہ ہفتے کانگریس کو باضابطہ طور پر فروخت کے بارے میں آگاہ کیا تھا، انہوں نے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی تعریف کی تھی اور اس فروخت کو ایران کے ساتھ باہمی مخالفت کا حصہ بتایا تھا، متحدہ عرب امارات نے طویل عرصے سے ایف 35 کی درخواست کر رکھی ہے جس میں اسٹیلتھ کی گنجائش ہے اور اسے نشانے پر بمباری، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور فضاء سے فضاء میں لڑائی کیلئے بھی تعینات کیا جاسکتا ہے، اسرائیل اپنے ایف-35 بیڑے کو عرب ممالک کے مقابلے میں اپنی اسٹریٹجک ویلیو کیلئے ناگزیر سمجھتا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply