امریکی سرزنش کےبجائے یورپ نےایران کو انتہائی تحمل کا مشورہ دیا

0

جرمن وزیر خارجہ مطابق ایران امریکہ کشیدگی میں کمی لانے کیلئے یورپ کو اہم کردار ادا کرنا چاہیئے یورپ کے تین اہم ملکوں نے عراق کی خودمختاری کا دفاع کیا اور کہا کہ نیا بحران عراق میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔

برلن (میزان نیوز) جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، اعلیٰ ایرانی جنرل کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی تازہ کشیدگی میں ان رہنماؤں نے پہلا بیان جاری کیا ہے، جرمن چانسلر انگیلا میرکل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے اتوار کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا، جس میں ان رہنماؤں نے زور دیا کہ کشیدگی میں کمی لانے کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے اور عراق میں تشدد کا موجودہ سلسلہ لازمی طور پر ختم ہو جانا چاہیئے، ان تینوں ممالک کے رہنماؤں نے دہرایا کہ وہ عراق کی خودمختاری اور سکیورٹی کے حق میں ہیں اور ایک نیا بحران عراق میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، ان رہنماؤں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے، جب ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور ایرانی عوام انتقام سخت کا مطالبہ کررہی ہے، جنرل سلیمانی کی جمعے کے دن بغداد میں دہشت گرد امریکی فوج نے ٹارگٹ کلنگ کی تھی، بعدازاں اتوار کو عراقی پارلیمان نے ایک ہنگامی سیشن میں ایک قرار داد منظور کی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عراق میں تعینات تمام غیر ملکی بشمول امریکی فوجیوں کو نکال باہر کرئے، دوسری طرف ایران نے اس تناظر میں اپنا پہلا باضابطہ ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کر دیا ہے کہ وہ عالمی جوہری معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا، سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں سنہ دو ہزار پندرہ میں طے پانے والی یہ تاریخی ڈیل موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ دو ہزار اٹھارہ میں ختم کرتے ہوئے ایران پر پابندیاں بحال کر دی تھیں، ایران کی طرف سے اس تازہ اعلان کے بعد یورپی ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران حکومت کسی تشدد یا جوہری سرگرمیوں کی بحالی سے باز رہے، اتوار کے دن ہی جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے تجویز کیا کہ مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر یورپی رہنماؤں اور مقامی فریقوں کے ساتھ مشاورتی عمل شروع کیا جائے، انہوں نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ تمام فریقوں کے ساتھ رابطہ کاری کو مؤثر بنانے کیلئے فوری طور پر ایکشن لے، ماس کے مطابق اس تناؤ میں کمی لانے کیلئے یورپ کو اہم کردار ادا کرنا چاہیئے۔

Share.

About Author

Leave A Reply