امریکی حمایت یافتہ کرد ملیشیا متعلق بولٹن بیان سنگین غلطی ہے، ترکی

0

ترک صدر رجب طیب اردوگان نے نیویارک ٹائمز میں شائع کالم میں جنگ زدہ شام سے انتہا پسندی کی وجوہات کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے انخلا کا صحیح فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔

انقرہ (میزان نیوز) ترک صدر رجب طیب اردوان نے شام میں امریکی حمایت یافتہ کُرد ملیشیا سے متعلق وائٹ ہاؤس کے مشیر برائے قومی سلامتی جون بولٹن کے بیان کو سنگین غلطی قراردے دیا، ترک صدر کے حالیہ بیان سے وائے پی جی کے مستقبل سے متعلق عدم اتفاق کو ظاہر کیا ہے، ترک صدر نے دہشت گردی کی نئی تعریف سامنے لانے پر واشنگٹن کی سرزنش کی، فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رجب طیب اردوان کا بیان ترک دارالحکومت میں اردوان کے مشیر ابراہیم کالن اور جون بولٹن کے درمیان 2 گھنٹے طویل ملاقات کے بعد سامنے آیا، خیال رہے کہ امریکی مشیر قومی سلامتی نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے سے متعلق ترک صدر کے مشیر سے اہم ملاقات کی تھی، ترک صدر نے اپنی جماعت کے پارلیمانی اراکین کو بتایا کہ جون بولٹن کی جانب سے اسرائیل میں دیئے گئے بیان کو قبول کرنا ممکن نہیں، انقرہ میں جون بولٹن کی آمد سے 2 روز قبل انہوں نے اسرائیل میں کہا تھا کہ شام سے امریکا کی واپسی اس کی حمایت یافتہ کرد فورسز کی حفاظت سے مشروط ہے جنہیں ترکی کی جانب سے دہشت گرد تصور کیا جاتا ہے، رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ جون بولٹن نے مذکورہ معاملے میں سنگین غلطی کی ہے، خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر میں شام میں داعش کے خلاف جنگ میں کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی فوج کے انخلا کا فیصلہ کیا تھا، اس حوالے سے ترک صدر نے نیویارک ٹائمز میں شائع کیے گئے ایک کالم میں جنگ زدہ شام سے انتہا پسندی کی وجوہات کے خاتمے سے متعلق ترکی کی حکمت عملی کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے انخلا کا صحیح فیصلہ کیا، اُنھوں نے اس تاثر کو اُبھارا ہے کہ شام میں اب امریکہ کا کوئی کام نہیں رہا اور نہ وہاں امریکی فوج کیلئے کوئی گنجائش باقی رہی ہے، ترک صدر نے دسمبر میں شام کے شمالی علاقے میں دریائے عرفات کے ساتھ وائے پی جی کے کنٹرول کو ختم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی وقت بھی شروع کیا جاسکتا ہے تاہم شام سے فوجی انخلا پر امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بعد اب انہوں نے اس میں تاخیر کا اشارہ دیا تھا، بعد ازاں نے ترکی نے شام اور اس سے ملحقہ سرحد پر فوجی دستے روانہ کیے تھے، ترک صدر نے دسمبر میں شام کے شمالی علاقے میں دریائے فرات کے ساتھ وائے پی جی کے کنٹرول کو ختم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی وقت بھی شروع کیا جاسکتا ہے تاہم شام سے فوجی انخلا پر امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بعد اب انہوں نے اس میں تاخیر کا اشارہ دیا تھا، بعد ازاں نے ترکی نے شام اور اس سے ملحقہ سرحد پر فوجی دستے روانہ کیے تھے۔

Share.

About Author

Leave A Reply