امریکہ جنگ سے دستبردار ایران کیساتھ غیرمشروط مذاکرات پر آمادہ

0

عراق کے نگراں وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ عراق کو تہران کی جانب سے سرکاری سطح پر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی انتقامی کارووائی شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا۔۔۔

نیویارک (میزان نیوز) اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ امن مذاکرات کیلئے تیار ہے جس کا مقصد ہے کہ بین الاقوامی امن و امان کو مزید نقصان نہ ہو اور ایرانی حکومت مزید جارحیت اختیار نہ کرے، امریکہ نے نکتہ پیش کیا کہ اقوام متحدہ کی شق 51 کے تحت جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کرنا درست فیصلہ تھا، امریکہ نے مزید کہا کہ وہ مشرق وسطی میں اپنے اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ کیلئے ضرورت کے تحت مزید اقدام اٹھائیں گے، واضح رہے کہ شق 51 کے مطابق حملہ آور ملک پر لازم ہے کہ وہ سلامتی کونسل کو فوری طور پر خبر دے کہ انھوں نے اپنے دفاع میں یہ قدم اٹھایا ہے، دوسری جانب ایران نے بھی اقوام متحدہ کو اپنے حملے کی توجیہ پیش کرتے ہوئے شق 51 کا سہارا لیا ہے، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچی نے لکھا کہ ایران نہ کشیدگی میں اضافہ چاہتا ہے نہ جنگ لیکن اپنے دفاع کی خاطر ایران نے عراق میں امریکی اڈے کو نشانہ بنا کر ایک مناسب اور خاطر خواہ جواب دیا ہے، ایرانی سفیر نے لکھا کہ آپریشن بہت احتیاط اور تیاری سے کیا گیا جس میں صرف امریکی دفاعی مفادات کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے کسی قسم کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا نہ کوئی شہری متاثر ہوا، امریکی صدر ماضی میں یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایران نے امریکی فوجیوں یا تنصیبات کو نشانہ بنایا تو وہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کریں گے لیکن منگل کی شب امریکی اڈوں پر ایران حملوں کے باوجود بدھ کو اپنے خطاب میں انھوں نے ایسے کسی اقدام کا اعلان نہیں کیا اور کہا کہ ایرانی حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں کوئی امریکی فوجی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا صرف کچھ املاک کو نقصان ہوا ہے، صدر ٹرمپ نے کہا کہ بظاہر ایران پیچھے ہٹ رہا ہے جو کہ فریقین کیلئے اچھی چیز ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ امریکہ کے پاس عظیم فوج اور ہتھیار ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم انہیں استعمال کریں، ہم انہیں استعمال نہیں کرنا چاہتے، اُدھر عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے کہا کہ ان کے ملک کو تہران کی جانب سے سرکاری سطح پر جنرل قاسم سلیمانی کی موت کی انتقامی کارووائی شروع ہونے سے پہلے اس کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا، امریکی وزیرِ دفاع کے مطابق ایرانی میزائلوں میں سے 11 انبار میں الاسد کے فوجی اڈے پر گرے جبکہ ایک نے اربیل میں فوجی اڈے کو نشانہ بنایا، ان کے علاوہ کئی میزائل فوجی اڈوں کے نواحی علاقوں میں بھی گرے، امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ مارک ملی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں حملوں سے متنبہ کرنے والے نظام کی وجہ سے ان حملوں میں جانی نقصان نہیں ہوا

Share.

About Author

Leave A Reply