یمنی حوثی ملیشیا کو امریکا دہشت گردوں کی سیاہ فہرست سےخارج کردیگا

0

ٹرمپ انتظامیہ نے حوثی ملیشیا کو اُس وقت دہشت گرد تنظیم قرار دیا جب صدر جو بائیڈن کے حلف اٹھانے میں صرف ایک روز باقی تھا اقوام متحدہ اور دوسرے کئی امدادی گروپوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کی منسوخی کا مطالبہ کر رکھا تھا۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ یمنی حوثی ملیشیا کو دہشت گردوں کی بلیک لسٹ سے خارج کر دے گی، یہ بات جمعہ پانچ فروری کو بتائی گئی، موجودہ امریکی صدر کی انتظامیہ کا یمنی حوثی ملیشیا کو دہشت گرد بلیک لسٹ سے خارج کرنا بھی ٹرمپ دور کی پالیسیوں میں تبدیلی کا تسلسل ہے، حوثی ملیشیا کو بلیک لسٹ قرار دینے کا فیصلہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مدتِ صدارت کے آخری ایام میں کیا تھا، محض تین ہفتوں کے بعد ہی اس میں تبدیلی کا امکان سامنے آ گیا ہے، امریکا نے یمن پر سعودی حملوں کی حمایت روک دی، امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے حوالے سے فیصلہ یمن میں ابتر انسانی صورت حال کے تناظر میں لیا جا رہا ہے اور ویسے بھی سابق انتظامیہ نے اپنی مدت کے اختتام کی آخری گھڑیوں میں ایسا قدم اٹھایا تھا، اہلکار کے مطابق اقوام متحدہ اور انسانی امداد کی تنظیمیں واضح کر چکی ہیں کہ ٹرمپ انتطامیہ کے فیصلے نے دنیا کے شدید ترین انسانی المیے کی صورت حال کو مزید ابتر کر دیا ہے، یہ امر اہم ہے کہ ٹرمپ انتطامیہ کو حوثی ملیشیا کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے پر بین الاقوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، عمومی طور پر یمنی تنازعے کو پراکسی جنگ قرار دی جاتی ہے، رواں برس انیس جنوری کو سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے حوثی ملیشیا کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، یہ حکومتی اعلان موجودہ صدر جو بائیڈن کے حلف اٹھانے سے ایک روز قبل کیا گیا، اس اعلان میں چند امدادی گروپوں کو استثنیٰ بھی دیا گیا لیکن اقوام متحدہ اور دوسرے کئی امدادی گروپوں نے اس فیصلے کی منسوخی کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

Share.

About Author

Leave A Reply