امریکا طبی عملے کا تعصبانہ رویہ سیاہ فام شہری معیاری علاج سےمحروم

0

امریکا میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج معالجے میں رنگ و نسل کا تعصب ریکارڈ کیا گیا ہے ایک سیاہ فام ڈاکٹر کووڈ انیس میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گئی اس ڈاکٹر نے طبی عمل میں سفید فام عملے کے تعصبانہ رویے کی شکایت کی تھی۔۔۔

نیویارک (میزان نیوز) امریکی سیاہ فام ڈاکٹر کووڈ انیس کی بیماری کے خلاف جاری اپنی جد و جہد میں انجام کار شکست کھا گئی، بیماری جیت گئی اور سیاہ فام مریض ڈاکٹر کی زندگی کو موت نے دبوچ لیا، اس ڈاکٹر نے اپنی موت سے قبل طبی عملے کے تعصبانہ رویے کی شکایت بھی کی تھی۔ یہ شکایت سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور صارفین نے امریکی ہیلتھ سسٹم پر شدید تنقید کی، تنقید کرنے والوں نے ریاستی حکام سے اس معاملے کی شفاف تفتیش کا مطالبہ بھی کیا، دوسری جانب سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین کی پوسٹس کو دیکھتے ہوئے امریکی ریاست انڈیانا نے اس افسوس ناک واقعے کی مکمل انکوائری کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، کورونا ویکسین کی تقسیم، امیر اور غریب ممالک میں واضح تفریق ہورہی ہے، جس سیاہ فام ڈاکٹر نے بیماری اور علاج میں تعصبانہ برتاؤ کی شکایت کی تھی، ان کا نام سُوزن مُور اورعمر 52 برس تھی۔ انہیں گزشتہ ماہ کورونا وائرس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بیماری میں شدت آنے کے بعد ڈاکٹر مُور کو ریاست انڈیانا کے دارالحکومت انڈیانا پولس کے شمال میں واقع شہر کارمل کے انڈیانا یونیورسٹی سسٹم نارتھ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا، یہ تفصیلات سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی پوسٹ کی گئی تھیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ بیماری کی شدت سے آگاہ تھیں اور انہوں نے کئی مرتبہ مناسب علاج کی درخواست بھی کی لیکن اسے نظر انداز کیا جاتا رہا، خاتون ڈاکٹر مُور کا کہنا تھا کہ اگر وہ سفید فام ہوتی تو ان کے ساتھ طبی عملے کا برتاؤ ایک اور انداز میں ہوتا، انہوں نے واضح کیا کہ دوائی دینا تو دور کی بات نارتھ ہسپتال کے عملے نے اسکیننگ اور معمول کے معائنہ کرنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی، ڈاکٹر سُوزن مُور کو سات دسمبر کے روز کارمل کے نارتھ ہسپتال سے یہ کہہ کر فارغ کر دیا گیا کہ اب انہیں مزید علاج کی ضرورت نہیں۔ اپنی ویڈیو میں انہوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر سے کہتی رہیں کہ وہ ابھی تندرست نہیں ہوئیں لیکن ان کی تمام گفتگو ان سنی کر دی گئی۔ مُور کے مطابق جب ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا، اس وقت ان کا بخار زیادہ اور بلڈ پریشر کم تھا، ان کو چند دوسرے ہسپتالوں میں بھی لے جایا گیا، ان کے انیس سالہ بیٹے ہنری محمد نے ایک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ نارتھ ہسپتال سے فارغ کیے جانے کے بعد ان کی والدہ کی طبیعت بگڑتی گئی اور ایک ہسپتال میں انہیں بیس دسمبر کو وینٹیلیٹر پر ڈال دیا گیا لیکن وہ سنبھل نہیں سکی۔ ہنری محمد کے مطابق ان کی والدہ کو غیر معیاری علاج کا سامنا رہا۔

Share.

About Author

Leave A Reply