امریکا میں جمعرات کو 23 ہزار نئے متاثرین میں وائرس کی تصدیق کی گئی

0

امریکا میں جمعرات کو 1397 مزید ہلاکتوں کے بعد ملک میں کورونا سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 93061 ہو گئی ہے جبکہ اسپین میں پہلی بار کورونا کے باعث ہونے والی یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 50 سے کم رہی ہے چھ جون تک لاک ڈاؤن میں توسیع۔۔۔

اسلام آباد/واشنگٹن (میزان نیوز) دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ تین لاکھ سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں، پاکستان میں متاثرین کی تعداد 49 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد بھی ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، پاکستان میں سب سے زیادہ 351 ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں، امریکا میں جمعرات کو ایک دن میں تقریباً 23 ہزار نئے متاثرین میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے، امریکی ادارہ برائے وبائی امراض کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک دن میں 22860 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے، امریکا میں کورونا کے متاثرین کی کل تعداد 1551095 ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے، امریکا میں جمعرات کو 1397 مزید ہلاکتوں کے بعد ملک میں کورونا سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 93061 ہو گئی ہے جبکہ اسپین میں پہلی بار کورونا کے باعث ہونے والی یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 50 سے کم رہی ہے، اسپین کی وزارت صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک میں 16 مارچ سے لے کر اب تک پہلی بار یومیہ ہلاکتوں کی تعداد 48 ہے، اس سے قبل منگل کے روز یہ تعداد 83 جبکہ بدھ کو 95 تک پہنچ گئی تھی تاہم جمعرات کو ان میں کمی واقع ہوئی ہے، اسپین میں ایک دن میں سب سے زیادہ 950 ہلاکتیں دو اپریل کو ہوئیں تھی، اسپین کی وزارت صحت کے مطابق جمعرات کو ملک میں کورونا کے صرف 482 مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں کل متاثرین کی تعداد 233037 ہوگئی ہے، جبکہ ملک میں کل اموات کی تعداد 27940 تک پہنچ گئی ہے، ملک میں کورونا متاثرین کی تعداد میں گراوٹ کے باوجود وزیر اعظم پدرو نے چھ جون تک لاک ڈاؤن میں توسیع کی ہے، ملک میں وبا سے آغاز سے اب تک پانچویں مرتبہ ہنگامی حالت کے صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتوں کی توسیع کی گئی ہے، انگلینڈ کے وزیرِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو محفوظ بنانے والی ویکسین میں شاید ابھی کچھ وقت لگے، ویکسین کی تیاری میں کم از کم ایک سال یا 18 مہینے لگ سکتے ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے پہلے ہی لوگوں پر ویکسین ٹیسٹ کرنا شروع کر دی ہے، لیکن یہ جاننا میں وقت لگے گا کہ کیا ویکسین نے انفیکشن کو روکا ہے یا نہیں، یہ خصوصاً اب ذرا زیادہ مشکل ہے کیونکہ عام آبادی میں پھیلنے والے وائرس کی شرح اب کافی کم ہے، دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی سائنسدان ویکسین پر کام کر رہے ہیں، یہ اچھی خبر ہے، کیونکہ وہ سبھی تو کامیاب نہیں ہوں گے۔ اور اگر ہو بھی جاتے ہیں تو یقیناً دنیا کو ایک سے زیادہ ویکسین کی ضرورت ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply