افغان طالبان کیساتھ امن معاہدہ جوبائیڈن نے جائزہ لینےکا فیصلہ کردیا

0

ٹرمپ کے دور حکومت میں افغان طالبان مضبوط ہوئے اور اس پورے عرصے میں طالبان ایک عسکریت قوت کی حیثیت سے دوبارہ منظم ہوئے جبکہ افغانستان کے دوتہائی دیہی علاقوں میں طالبان دہشت گرد اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سابق صدر ٹرمپ اور طالبان کے درمیان طے ہوئے افغان امن معاہدے کا جائزہ لے گی، امریکی صدارتی دفتر کی ترجمان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس اس بات کی یقین دہانی کرنا چاہتا ہے کہ افغان طالبان ملک میں تشدد میں کمی اور دہشت گرد عناصر سے اپنے تعلقات ختم کرنے سمیت اس معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلیٰ مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے اس جائزے کی تصدیق کیلئے افغان حکومت سے بات کی ہے، افغانستان میں حالیہ چند ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے، امریکہ کے ڈیموکریٹ صدر طالبان کیساتھ کوئی بھی معاہدہ کرتے وقت افغان آئین اور خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی اہمیت دیں گے اور اِن دو موضوعات پر کوئی لچک نہیں دکھائیں گے، طالبان کیساتھ ریاعتی رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے ٹرمپ کے دور حکومت میں افغان طالبان سمیت دیگر دہشت گرد گروہ مضبوط ہوئے اور اس پورے عرصے میں طالبان ایک عسکریت قوت کی حیثیت سے دوبارہ منظم ہوئے جبکہ افغانستان کے دوتہائی دیہی علاقوں میں طالبان اپنا اثرو رسوخ قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے، افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے بتایا تھا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ انتظامیہ نے نام نہاد امن معاہدے میں طالبان کی بہت سے شرائط مان لی تھیں، جس سے 2018ء تک افغانستان میں قائم رہنے والا سیاسی ڈھانچے کیلئے خطرہ پیدا ہوگیا تھا، دہشت گرد طالبان نے نام نہاد امن معاہدے کے تحت امریکی فوجوں پر حملے تو روک دیئے مگر وہ افغان حکومت کے ساتھ لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply