افغانستان سے امریکی فوج کا مکمل انخلا ٹرمپ کا اعلان پینٹاگان لاعلم

0

صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ سے متعلق فوجی اتحاد نیٹو کے سربراہ جینس اسٹول ٹینبرگ سے سوال کیا تو اُنکا کہنا تھا کہ ہم زمینی حالات کا جائزہ لینے کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے کیوںکہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں پرعزم رہنا انتہائی ضروری ہے۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں برس کرسمس تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے بیان پر پینٹاگون نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، پینٹاگون نے صدر ٹرمپ کے بیان پر اب تک کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا جب کہ وزیرِ دفاع مارک ایسپر سے جمعرات کو پینٹاگون میں ایک تقریب کے دوران افغانستان سے فوجی انخلا سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، مارک ایسپر کے ترجمان، جوائنٹ چیفس چیئرمین جنرل مارک ملے اور امریکی سینٹرل کمان نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے معذرت کی ہے اور کہا کہ اس حوالے سے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا جائے، پینٹاگون کے ایک ذریعے نے امریکی میڈیا کو نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ کی افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے متعلق ٹوئٹ سے یہ واضح نہیں ہے کہ وہ یہ حکم دے رہے ہیں یا اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کئی مواقع پر امریکی فوج کی بیرونِ ملک موجودگی کو شرمناک، احمقانہ، دوسروں کی لڑائی اور نہ ختم ہونے والی جنگ سے تشبیہ دیتے رہے ہیں، اگر صدر ٹرمپ کے بیان پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو افغانستان سے فوج واپس بلانے کا اُن کا امریکی عوام سے کیا گیا وعدہ پورا ہو جائے گا، بیشتر امریکی عوام بھی فوج کی افغانستان سے واپسی کے حامی ہیں، صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ سے متعلق جب مغربی ملکوں کے فوجی اتحاد (نیٹو) کے سربراہ جینس اسٹول ٹینبرگ سے سوال کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ہم زمینی حالات کا جائزہ لینے کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے کیوں کہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں پرعزم رہنا انتہائی ضروری ہے، انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں طویل مدتی استحکام ہی ہمارے مفاد میں ہے۔ اس لیے ہم افغانستان سے انخلا کا فیصلہ ایک ساتھ کریں گے اور درست وقت پر ہم ایک ساتھ افغانستان سے انخلا کریں گے۔

Share.

About Author

Leave A Reply