افغانستان،غیرملکی فوجیوں کا جلد بازی میں انخلا غیردانشمندانہ اقدام ہوگا

0

واشنگٹن پوسٹ میں شائع کالم میں وزیراعظم عمران خان نے افغان لڑائی کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی صورتحال کے معاشی، اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا پاکستان کبھی افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا مرکز نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔

اسلام آباد(میزان نیوز) پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ تمام فریقین، جنہوں نے افغان امن عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے وہ غیر حقیقی ٹائم لائنز کی مخالفت کریں کیونکہ افغانستان سے جلد بازی میں غیر ملکی فوجیوں کا انخلا غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ ہمیں ان علاقائی خرابیوں سے بھی بچنا چاہیئے جو امن کی حالت سرمایہ کاری نہیں کرتے ہیں اور افغانستان میں عدم استحکام کو اپنے جغرافیائی سیاسی مقاصد کیلئے فائدہ مند سمجھتے ہیں، انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ امریکا کی طرح پاکستان کبھی بھی افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنتے نہیں دیکھنا چاہتا کیونکہ نائن الیون کے بعد سے اب تک 80 ہزار سے زائد پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور عام شہری دہشت گردی کے نتیجے اپنی جانیں دے چکے ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اب بھی افغانستان میں قائم بیرونی امداد پر فعال دہشت گرد گروہوں کے ذریعے حملوں کے نشانے پر ہے، واشنگٹن پوسٹ میں شائع کالم میں وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے معاشی، اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جنگ کے دوران سب سے بڑی قیمت پاکستان کے لوگوں نے ادا کی، چالیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کو رہائش دی، ملک میں اسلحہ اور منشیات پھیلی، اقتصادی شرح متاثر ہوئی اور پاکستان 60 یا 70 کی دہائی والا نہیں رہا، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس تجربے نے ہمیں دو اہم سبق سیکھائے پہلا یہ کہ ہم جغرافیہ، ثقافت اور رشتہ داری کے ذریعے افغانستان سے بہت قریب ہیں اور ہمیں احساس ہوا کہ جب تک ہمارے افغان بہن بھائی امن میں نہیں ہوں گے پاکستان کو حقیقی امن نہیں ملے گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ بھی سیکھا کہ افغانستان میں امن اور سیاسی استحکام کو طاقت کے استعمال سے مسلط نہیں کیا جاسکتا ہے صرف افغانستان کی سیاسی حقائق کو تسلیم کرنے والے افغان اور افغانستان کی زیرقیادت مفاہمت کا عمل ہی دیرپا امن قائم کرسکتا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply