اسرائیلی جیلوں میں کمسن فلسطینی بچوں کو اذیتناک تشدد کا سامنا

0

اسرائيلی فوج اور پوليس اہلکار انہيں نہايت بے رحمی کیساتھ ہاتھ پاوں باندھنے،انہيں ہتھکڑياں ڈالتے اور ان کی آنکھوں پر پٹياں باندھتے ہيں

مقبوضہ بيت المقدس (میزان نیوز) فلسطينی اسيران پر ہونے والے مظالم کا دستاويزی ريکارڈ مرتب کرنے والے تجزيہ کار عبدالناصر فروانہ کے مطابق اسرائيلی انتظاميہ نے عقوبت خانوں ميں 190 کم سن فلسطينی بچوں کو پابند سلاسل کيا ہوا ہے عبدالناصر فروانہ نے ايک انٹرويو ميں بتايا کہ دوران حراست بچوں کو اذيت ناک تشدد، بليک ميلنگ اور نہايت ظالمانہ طريقے سے ان کے خلاف فوجداری مقدمات بنا کر انہيں پھنسانے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ يہ تمام اقدامات بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدوں کی سنگين خلاف ورزی ہے.عبدالناصر فروانہ نے مزيد کہا کہ اسرائيلی فوج اور پوليس اہلکار انہيں نہايت بے رحمی کے ساتھ ہاتھ پاوں باندھنے، انہيں ہتھکڑياں ڈالتے اور ان کی آنکھوں پر پٹياں باندھتے ہيں. دوران تفتيش اْنہيں بھی اسی طرح کے تشدد کے حربوں کا سامنا کرنا پڑتا جس طرح بڑی عمر کے جنگی قيديوں کے ساتھ کيا جا سکتا ہے. انہيں بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہيں۔ فلسطينی حکومت کی جانب سے بچوں کے قومی دن پر جاری اعداد و شمار ميں بتايا گيا ہے کہ فلسطين ميں کل آبادی 40 لاکھ 17 ہزار سے زيادہ ہے۔ ان ميں 20 لاکھ سے زيادہ تعداد اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کی ہے جو کل آبادی کے 48 فيصد نمائندگی کرتے ہيں۔

Share.

About Author

Leave A Reply