اردوگان، مسلمانوں کو میدان میں نکالا اور خود دشمن کا حلوہ کھانے لگے

0

ترکی کی جانب سے روسی ایس 400 ڈیفنس سسٹم خریدنے پر امریکہ ناراض ہے ترک کرنسی زوال پذیر ہے اور اب امریکہ نے ترکی پر نئی پابندیاں لگائی ہیں اور یہ پیغام دیا گیا ہے ایران کی طرح ترکی کو بھی بتدریج اقتصادی ناکہ بندی کی جائے گی۔۔۔

انقرہ (میزان نیوز) ترکی نے صدر رجب طیب اردوگان کے دور میں اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کئے ہیں بلکہ ترکی کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قدیم ہیں، مسلم ملکوں میں جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا وہ ترکی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر دور شہنشاہیت میں ایران تھا مگر ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امام خمینیؒ نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کردیئے بلکہ اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے والی شاہراہ کو خیانان فلسطین اور میدان فلسطین سے تبدیل کردیا اور اس وقت ایران وہ واحد ملک ہے جو فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں کو کھلے عام مالی اور عسکری مدد فراہم کرتی ہے اور اس کیلئے ایرانی پارلیمنٹ سے منظوری لی جاتی ہے، ترک صدر اردوگان نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے پر 2018ء میں ترک سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور اسرائیل کے سفیر کو واپس کردیا تاہم تجارتی تعلقات قائم کرلئے، ترکی صدر اردوگان کی قیادت میں اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے، روس سے ایس 400 ڈیفنس سسٹم خریدنے پر امریکہ ناراض ہے، ترک کرنسی زوال پذیر ہے اور اب امریکہ نے ترکی پر نئی پابندیاں لگائی ہیں اور یہ پیغام دیا گیا ہے ایران کی طرح ترکی کو بھی بتدریج اقتصادی ناکہ بندی کی جائے گی، امریکہ اور غاصب اسرائیل اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ ترک صدر نے حماس کے رہنماؤں کو انقرہ آنے کی دعوت کیوں دی اور ترکی میں حماس کا دفتر کھولنے کی بات ہوئی کیوں؟ ترکی کی موجودہ قیادت 2015 کی فوجی بغاوت پر قابو پانے کے بعد جو جارحانہ انداز اختیار کیا اُس نے امریکہ اور مغربی ملکوں کو شدید ناراض کیا، ترک صدر رجب طیب اردوگان عالم اسلام کی قیادت حاصل کیلئے بہت زیادہ آگے نکل گئے جہاں سے واپسی کیلئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنا ضروری ہوگیا تھا، ترک معاشرہ اچھے معاشی حالات میں اردوگان کو تو برداشت کررہے تھے خراب اقتصادی حالات میں ایسا نہیں ہوسکتا، ترک صدر پہلے بہت آگے نکل جاتے ہیں پھر الٹے پاؤں واپس ہوجاتے ہیں، شام میں داعش کے سب سے بڑے سپورٹر صدر اردوگان تھے لیکن داعش کو شام کے مقتل میں تنہا چھوڑ کر لاتعلق ہوگئے، صدر اردوگان نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو بھی یقیناً مایوس کیا ہے، وہ دشمن کے مقابلے کیلئے فوج کو میدان میں لے آئے اور فوج کو چھوڑ کر خود دشمن کیساتھ بیٹھ کر حلوہ کھا رہے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply