احتساب عدالت میں زرداری اور فریال پر فرد جرم عائد، گواہان طلب

0

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 2015 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹس بھیجی گئی جس میں بتایا گیا کہ 2013 سے 2015 کے دوران جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان میں حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور اُن کی ہمشیرہ فریال تالپور پر جعلی اکاؤنٹس کیس میں فردِ جرم عائد کردی گئی ہے، اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پیر کو جعلی اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کے کیس کی سماعت کے موقع پر آصف زرداری اور اُن کی بہن فریال تالپور پر فردِ جرم عائد کردی ہے، احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے میگا منی لانڈرنگ کے ضمنی ریفرنس میں آصف زرداری سمیت مجموعی طور پر 14 شریک ملزمان پر فردِ جرم عائد کی جن میں حسین لوائی، طحہ رضا، محمد عمیر، مصطفیٰ مجید، سلمان یونس، عمران خان، محمد اورنگزیب اور بلال شیخ سمیت دیگر شامل ہیں، میگا منی لانڈرنگ ریفرنس میں نیب نے گواہان کی فہرست عدالت کو فراہم کردی ہے، اس ریفرنس میں کُل 69 گواہان ہیں، عدالت نے آئندہ سماعت پر تین گواہوں احسن اسلم، سید محمد عاطف اور منظور حسین کو طلب کرلیا ہے، نیب کے تینوں گواہان کے بیانات آئندہ سماعت پر قلم بند کیے جائیں گے، کیس کی مزید سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے، عدالت نے ملزمان کے خلاف پارک لین ریفرنس اور ٹھٹہ واٹر سپلائی ریفرنس کی کارروائی پانچ اکتوبر تک ملتوی کی ہے، سماعت کے بعد کمرۂ عدالت کے باہر صحافی نے آصف زرداری سے سوال کیا کہ عدالتی کارروائی پر کیا کہیں گے؟ اس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے، ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ پیپلز پارٹی آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کے مطابق نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہوگی؟ اس پر آصف زرداری انشااللہ کہہ کر آگے بڑھ گئے، اُدھر آصف زرداری نے جعلی اکاؤنٹس کیسز کا ٹرائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز میں بری کرنے کی استدعا کی ہے، آصف زرداری نے فوری ٹرائل روکنے کی بھی درخواست کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز میں بری کیا جائے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیسز نیب کا دائرہ اختیار نہیں اس لئے ریفرنس خارج کیا جائے، واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 2015 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹس بھیجی گئی، جس کے بعد اومنی گروپ کا نام سامنے آیا، تحقیقاتی اداروں نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 2013 سے 2015 کے دوران 6 سے 10 مہینوں کیلئے جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی، دستیاب دستاویزات کے مطابق منی لانڈرنگ کی رقم 35 ارب روپے ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply