احتساب عدالتوں کی خالی آسامیوں پر ججوں کو تعینات کیا جائے، عدلیہ

0

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ نہ تو نیب میں کام کرنے والے تفتیشی افسران بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے کیلئے تربیت یافتہ ہیں اور نہ ہی پراسیکیوٹرز احتساب عدالتوں میں مقدمات کی پیروی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ احتساب عدالتوں کے ججز کی 5 خالی آسامیوں پر تعیناتیاں کی جائیں مختلف احتساب عدالتوں میں ایک ہزار 226 ریفرنسز زیر التوا ہونے کی وجہ سے قومی احتساب بیورو (نیب) کو درپیش گنجائش کے مسائل پر اظہار تشویش کیا، عدالت عظمیٰ کو بتایا گیا کہ 5 احتساب عدالتیں ایسی ہیں جس میں کوئی پریزائڈنگ جج تعینات نہیں، چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ نہ تو نیب میں کام کرنے والے تفتیشی افسران بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے کیلئے تربیت یافتہ ہیں اور نہ ہی پراسیکیوٹرز احتساب عدالتوں میں مقدمات کی پیروی میں دلچسپی رکھتے ہیں، احستاب عدالتوں میں فیصلہ سازی میں تاخیر کے حوالے سے لئے گئے از خود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی جس میں چیف جسٹس نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ زیر التوا کیسز کو نمٹانا نیب کی سب سے کم ترجیح ہے، اس سے قبل 8 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جسٹس مشیر عالم نے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ ٹرائل کورٹس میں ملزم پر مقدمے کی کارروائی میں تاخیر پر ازخود نوٹس لے کر ایک خصوصی بینچ بنایا جائے، عدالت عظمیٰ نے نیب کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جس میں ٹرائلز میں تاخیر کی وجوہات، کتنی عدالتوں میں پریزائڈنگ ججز کی کمی ہے اور ان آسامیوں کو پر کیوں نہیں کیا گیا اس کی وجہ پر روشنی ڈالی جائے، اس سے قبل جمعرات کو ہونے والی سماعت میں پراسیکیوٹر جنرل اصغر حیدر نے عدالت کو بتایا تھا کہ نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں اور اس حوالے سے ریجنل دفاتر کو خطوط بھی ارسال کردیئے گئے ہیں جس میں کہا گیا کہ وہ بذات خود کارروائی کی رفتار دیکھ رہے ہیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 6 ماہ کے عرصے میں مختلف عدالتوں میں زیر التوا ایک ہزار 226 ریفرنس نمٹائے جاسکتے ہیں بشرط یہ کہ تیزی سے کام کیا جائے اور اگر ایک کیس میں گواہان کی بڑی تعداد کو شامل کیا جائے گا تو معاملہ کبھی حل نہیں ہوگا، چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ نیب کو ریفرنسز میں گواہان کی تعداد کے بجائے گواہی کے معیار پر توجہ دینی چاہیئے، پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نیب بنیادی تبدیلیاں کرنے اور پورے تفتیشی نظام کو از سر نو ترتیب دینے کیلئے پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کی معاونت حاصل کرنے کیلئے اشتہار دینے پر کام کررہا ہے، از خود نوٹس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مختلف شہروں میں احتساب عدالتوں کے ججز کی 5 خالی آسامیوں پر تعیناتیاں کی جائیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply