یمن پرسعودی مسلط کردہ جنگ عوام کو شدید قحط کاسامنا ہے،اقوام متحدہ

0

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صحافیوں کو بتایا کہ انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے لاپرواہی کا وقت نہیں اور امن کی خاطر تعمیری کارروائیوں کی رفتار کو مضبوط کرنا ضروری ہے ۔۔۔۔

نیویارک (میزان نیوز) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقین سے یمن میں جاری کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن میں شدید قحط کا سامنا ہوسکتا ہے جس کا تجربہ ہمیں دہائیوں سے نہیں ہوا ہوگا، اقوام متحدہ کے سربراہ نے صحافیوں کو بتایا کہ انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے لاپرواہی کا وقت نہیں اور امن کی خاطر تعمیری کارروائیوں کی رفتار کو مضبوط کرنا ضروری ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ مارک لووکوک نے گزشتہ ہفتے ہی خبردار کیا تھا کہ یمن میں شدید قحط کے واضح خطرات موجود ہیں جس سے ملک کی آدھی آبادی ایک کروڑ 40 افرد متاثر ہوسکتے ہیں۔یمن میں خطرناک قحط کا سامنا ہوسکتا ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہیاد رہے کہ یمن میں 2014ء میں حوثی باغیوں کی جانب سے عالمی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو گرانے کے بعد بحران نے جنم لیا تھا اور سعودی سربراہی میں حکومتی اتحادی 2015ء سے ان کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ مخالف فریقین کو بحرانی کیفیت کے خاتمے اور امن کے قیام کیلئے مذاکرات پر آمادہ کرنے کی خاطر زیادہ سے زیادہ ممالک شریک ہیں، انہوں نے اتحادی فورسز اور حوثی باغیوں پر زور دیا کہ وہ رواں ماہ کے اواخر میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں ‘اختلافات اور رکاوٹوں کو مذاکرات کے ذریعے ختم کردیں، انتونیو گوتریس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘گنجان آباد علاقوں سمیت ہر جگہ تشدد کو فوری طور پر روکنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ میری اپیل کرنے کا مقصد ہے کہ فریقین اس تنازع کو سمجھیں اور جو موقع مل رہا ہے اس کو حاصل کریں، اگر ایسا نہ ہوا تو انسانی صورت حال مزید گمبھیر ہوجائے گی اور اگلے برس دنیا کو یمن میں ایک قحط سے نمٹنا ہوگا، گوتریس نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ میری اپیل کو سنا اور اس پر غور کیا جائے گا۔

Share.

About Author

Leave A Reply