یمن میں پاکستانی فوج نہیں بھجوائی جائے گی، شاہ محمود قریشی

0

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے گا اور یمن جنگ ختم ہونے کے بعد خطے کو استحکام ملے گا۔۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یمن میں پاکستانی فوج نہیں بھجوائی جائے گی، اپنے ایک انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب نے 3 سال کیلئے ادھار تیل اور 3 ارب ڈالرز کے بدلے پاکستان پر کوئی شرط عائد نہیں کی، یمن کے حوالے سے ہمارے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نا ہی پاک فوج یمن جائے گی، چند روز قبل پاک ایران سرحد سے ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران سرحد پر ایرانی بارڈر گارڈز کے اغوا کا واقعہ افسوس ناک ہے، پاکستان کی دو ملکوں کی سرحدوں پر پہلے ہی تناؤ ہے، ایسی صورت حال میں ہم تیسرے ملک کی سرحد پر صورت حال خراب نہیں کرسکتے، انہوں نے کہا کہ ایران کو سعودی عرب سے ہمارے تعلقات پر کوئی اعتراض نہیں، پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے ایران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے مسائل ہیں، پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے، پاکستان اور بھارت نے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا فیصلہ کیا اور اس میں نریندر مودی سمیت سب راضی تھے، مجھے نہیں لگتا کہ بھارتی حکومت آئندہ عام انتخابات تک پاکستان سے مذاکرات کیلئے آگے آئے گی۔وزیراعظم قوم کو دورہ سعودی عرب سے متعلق آگاہ کریں گے، ذرائع فوٹو:اسکرین گریبہمیں بھی کوئی عجلت نہیں، اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے گا، مسلم دنیا کو اکٹھا کرنے کیلئے کوششیں کریں گے اور یمن جنگ میں ثالثی کا کردار کے خطے کو مستحکم کیا جائے گا، عمران خان نے کہا کہ منی لانڈرنگ روکنے کیلئے اداروں کو مضبوط کررہے ہیں اور منی لانڈرنگ  روکنے کے معاملات کی خود نگرانی کررہا ہوں ،انہوں نے کہا کہ ماضی میں سرمایہ کار پاکستان کے دوروں پر آتے تو ان سے پیسہ مانگا جاتا تاہم  ہاؤسنگ میں غیرملکی سرمایہ کاری لائیں گےاورغربت کوکم کرنے کے لیے آنے والے دنوں میں خصوصی پیکیج دیں گے، ہم نوجوانوں کو نوکریاں دینے کیلئے اقدامات کررہے ہیں اور ملک میں 50 لاکھ گھر بنائیں گے۔

Share.

About Author

Leave A Reply