ہم فلسطینی تو نہیں جو ہم پر اسرائیلی فوج گولیاں چلائے، طاہرالقادری

0

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب حکومت کے جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے کے بعد عوامی تحریک کی آئینی درخواست نمٹادی طاہر القادری کا واقعے کی جے آئی ٹی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار ۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پنجاب حکومت کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے پر سپریم کورٹ نے عوامی تحریک کی درخواست نمٹا دی جب کہ دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ طاہر القادری نے دھرنا دیا لیکن عدالتوں میں نہیں آئے، طاہر القادری عدالت میں آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ کیا ہم فلسطینی تھے جو ہم پراسرائیلی فوج نے گولیاں چلائیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوبارہ تحقیقات اور نئی جے آئی ٹی بنانے کیلئے درخواست کی سماعت کی، پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاوٴن پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت چاہتی ہے واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں، سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے بیان کی روشنی میں عوامی تحریک کی درخواست نمٹادی، دوران سماعت عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور خود دلائل دیتے ہوئے عدالت کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ واقعے کا مقدمہ درج نہ ہونے پر اسلام آباد میں دھرنا دیا، طاہر القادری نے واقعے کی جے آئی ٹی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی مظلوم کا بیان تفتیش میں ریکارڈ نہیں کیا گیا۔Related imageکسی جے آئی ٹی نے زخمی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا، ایسی تفتیش کو تفتیش کہا جا سکتا ہے؟ یتیم لوگ کہتے تھے ہمیں انصاف نہیں ملے گا، طاہر القادری عدالت میں آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ کیا ہم فلسطینی تھے جو ہم پراسرائیلی فوج نے گولیاں چلائیں، دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرنے پر اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں، سپریم کورٹ نے انصاف کا بول بالا کر دیا ہے، پانچ رکنی لارجر بینچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن متاثرین کی خوشیاں لوٹا دیں، سپریم کورٹ نے ہمارے لیے انصاف کی امید کا چراغ جلایا ہے، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا اعلیٰ عدلیہ نے واضح کر دیا کہ ملک میں انصاف کی فراہمی کے چراغ گل نہیں ہوئے، ججز نے اطمینان سے میری بات سنی ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کردیا، حکومت نے تحقیقات کیلئے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی، ہم حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے جے آئی ٹی کے قیام کی مخالفت نہیں کی، واضح رہے کہ جون 2014ء کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر قائم تجاوزات کے خاتمے کیلئے پولیس کی جانب سے آپریشن کیا گیا جس کے دوران مزاحمت پر پولیس کی فائرنگ سے 14 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

Share.

About Author

Leave A Reply