ٹرمپ انتظامیہ کی خواہش خاشقجی قتل سے جلد از جلد توجہ ہٹ جائے

0

مسئلہ فلسطین کے اسرائیلی مجوزہ منصوبے کے مطابق حل کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو سعودی عرب کی حمایت درکار ہے اور ایران کو تنہا کرنے کیلئے بھی سعودی عرب امریکہ کیلئے انتہائی اہم ہے ۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کے اُتار چڑھاؤ کے درمیان ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے مالک اور مختار کی صورت میں سامنے آئے جو کہ ایک لحاظ سے امریکہ کیلئے خوش کن تھا، سعودی عرب میں اصلاحات کرنے کے عزم نے ان کے منصوبے کے کئی منفی پہلوؤں کو چھپائے رکھا، لیکن یہ زیادہ دیر نہیں چل سکا، وہ قطر کو تنہا کرنے، لبنان کے وزیراعظم کو یرغمال بنائے رکھنے، انسانی حقوق کے معاملے میں خام خواہ کینیڈا سے الجھ جانے اور سب سے زیادہ سنگین اقدام یمن پر فوج کشی کرنے کے ذمہ دار ہیں، یمن پر فوج کشی کی وجہ سے لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس پورے ملک کو قحط کے دہانے تک پہنچا دیا ہے، واشنگٹن کے نقطۂ نگاہ سے محمد بن سلمان کے اقدامات استحکام کے بجائے خطے کو بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کیلئے مشکلات اس وجہ سے بھی زیادہ سنگین ہوگئی ہیں کیونکہ اُس نے تمام انڈے محمد بن سلمان کی ٹوکری ہی میں رکھ دیئے تھے، یہ خطے میں اپنے تین انتہائی اہم اہداف کے حصول کیلئے ولی عہد بن سلمان کی طرف دیکھ رہی ہے، اول یہ کہ شام کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی مدد پر انحصار کررہی ہے، دوئم یہ کہ مسئلہ فلسطین کے اسرائیلی مجوزہ منصوبے کے مطابق حل کیلئے بھی ٹرمپ انتظامیہ کو سعودی عرب کی حمایت درکار ہے اور سوئم یہ کہ ایران کو تنہا کرنے کیلئے بھی سعودی عرب امریکہ کیلئے انتہائی اہم ہے۔Image result for jamal khashoggi and usان تمام عوامل کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کی شدید خواہش یہ ہے کہ خاشقجی کے قتل کے معاملے سے جلد از جلد توجہ ہٹ جائے اور ٹرمپ کی صدارت کے دوران سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر نظرثانی نہیں کی جائے لیکن اس کو اب بہت دیر تک التوا میں نہیں ڈالا جاسکتا، ظاہر ہے کہ اس بارے میں ٹرمپ اور کانگرس کے موقف میں اختلاف ہے، کیا سعودی عرب کوئی ایسا طریقہ اختیار کر سکتا ہے جس سے سعودی شہزادے کو کچھ روکا جا سکے، گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں ہونے والی کانفرنس کی چکا چوند میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ولی عہد بن سلمان کو داخلی سطح پر کوئی مشکل درپیش ہو، روس کی طرف سے زور دیا جارہا ہے کہ خاشقجی کے قتل کے بارے میں سعودی موقف کو تسلیم کرلیا جائے جس سے واضح طور پر اشارہ ملتا ہے کہ روس اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے، شاید وہ مستقبل میں اسلحے کے معاہدے حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہو، ظاہر ہے صدر پوتن خطے میں اپنے ملک کے مفادات کے تحفظ کی کوشش میں ہیں، مغرب کیلئے اسلحے کے سودے دو دھاری تلوار کی طرح ہیں، اسلحے کے سودوں کی طویل المدتی معطلی مغرب کیلئے مہنگا سودا ثابت ہوگا لیکن سعودی عرب کیلئے بھی فوری طور پر امریکہ کی جگہ چین اور روس سے حاصل کردہ اسلحہ استعمال کرنا شروع کر دینا ممکن نہیں ہے، مغرب میں تیارہ کردہ ساز و سامان، اسلحہ اور بارود اور اس کے تربیتی ماہرین اور دفاعی مشیر ہی یمن پر سعودی فضائیہ کے ہوائی حملوں کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply