نائیجیریا میں اربعین حسینیؑ کے جلوس پر فوج کی فائرنگ 10 عزادار شہید

0

نائیجیریا کی فوج سعودی حکومت کے اشاروں پر ملک میں شیعہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کیلئے گزشتہ گیارہ سالوں سے سرگرم ہے تازہ حملہ شیعہ مسلمانوں خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ ہے ۔۔۔۔۔۔

ابوجا (میزان نیوز) نائیجیریا کی اسلامی موومنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کل دارالحکومت ابو جا کے قریب اربعین حسینیؑ کے جلوس میں شرکت کرنے والے عزاداروں پر فوج نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں متعدد عزادار شہید و زخمی ہوگئے، یاد رہے کہ نائیجیریا میں اس سے قبل بھی فوج نے شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور شیعہ رہنما آیت اللہ ابراہیم زکزکی کو گرفتار کرلیا جبکہ اُن کے تین بیٹوں کو شہید کردیا، نائیجیریا کی اسلامی موومنٹ کے ترجمان ابراہیم موسی کا کہنا ہے کہ اربعین حسینیؑ کے جلوس پر فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں دس عزادار شہید اور متعدد زخمی ہوگئے، باخبر ذرائع کہتے ہیں نائیجیریا کی فوج سعودی حکومت کے اشاروں پر اس افریقی ملک میں شیعہ مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کرنے کیلئے گزشتہ گیارہ سالوں سے سرگرم ہے، دارالحکومت ابو جا کے قریب نواسہ رسولؐ کے عزاداروں پر فوج نے کسی اشتعال کے بغیر اور عزاداری پر پابندی نہ ہونے کے باوجود فائرنگ کردی، اربعین حسینیؑ کے جلوس میں شریک عزاداروں پر نائیجیریا کی فوج کا حملہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف سرکاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کے تحت بارہا امام بارگاہوں اور نواسہ رسولؐ کی مجالس میں شریک لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، یوم عاشور پر اس سال اس افریقی ملک میں عزاداری کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے تھے اور کئی مقامات پر پولیس نے عزاداروں پر حملے کیے تھے۔نا‏ئیجریا،نواسہ رسولۖ کے عزاداروں پر فوج کی فائرنگ، درجنوں شہید و زخمی گزشتہ چند برس کے دوران نواسہ رسولؐ کے عزاداروں پر نائیجیریا کی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کے حملوں میں سینکڑوں عزادار شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، نائیجیریا کی فوج نے تیرہ دسمبر دو ہزار پندرہ کو عزاداران سید الشھدا پر سب سے بڑا خونی حملہ کیا تھا جس میں سات سو سے زائد بے گناہ عزادار شہید اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوگئے تھے، شہید ہونے والوں میں نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما آیت اللہ ابراہیم زکزکی کے تین بیٹے بھی شامل تھے جبکہ آیت اللہ ابراہیم زکزکی اور ان کی اہلیہ کو زخمی حالت میں فوج نے گرفتار کر لیا تھا اور تاحال وہ اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں، نائیجیریا کی وفاقی عدالت نے دسمبر دو ہزار سولہ میں آیت اللہ ابراہیم زکزکی اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی نیز فوج کی جانب سے آیت اللہ زکزکی کے خاندان کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر بطور خوں بہا ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم نائیجیریا کی فوج اور انٹیلی جنس ادارے تاحال ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلے کے برخلاف آیت اللہ ابراہیم زکزکی کو رہا کرنے اور تاوان کی رقم ادا کرنے سے مسلسل گریز کررہی ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply