نئےپاکستان کی بنیاد چیف جسٹس ثاقب نثار نےرکھی تھی،عمران خان

0

عمران خان نے کہا جمہوریت کا مقصد حکمرانوں کو قانون کے نیچے لانا ہے سی ڈی اے میرے نیچے ہے اور مجھے بتاتا ہےعمران خان آپ نے یہاں غلطی کی عدالت کو بنی گالا کی صورتحال بتا رہا ہے ۔۔۔۔

اسلام آباد (میزان نیوز) پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہیں جب کہ چیف جسٹس نے پاناما لیکس کا  فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی، اسلام آباد میں بڑھتی آبادی پر فوری توجہ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے جہاں قانون کی پاسداری ہو، کیوں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاناما لیکس کا فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی تھی، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ماضی کی جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کا سوچتی تھیں کہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں، ان کے دور میں تمام حکومتی ادارے مفلوج تھے، ان کی چھوٹی سوچ کی وجہ سے ہم پانی جیسے سنگین مسئلےمیں پھنس گئے، یہاں انتخابات ہوتے تھے قانون پر عملدرآمد نہیں ہوتا تھا، کسی  نے نہیں سوچا تھا کہ وزیرِاعظم بھی قانون کے تابع ہوگا، میرے کانوں نے یہ بھی سنا کہ اچھا ہوا بنگلہ دیش الگ ہوگیا وہ بوجھ تھا، آج وہی بنگلہ دیش آگے کی طرف جارہا ہے، عمران خان نے کہا جمہوریت کا مقصد حکمرانوں کو قانون کے نیچے لانا ہے، سی ڈی اے میرے نیچے ہے پھر بھی مجھے بتاتا ہے عمران خان آپ نے یہاں غلطی کی ہے، میرے ماتحت ادارہ سی  ڈی اے آج عدالت کو بنی گالا کی صورتحال بتا رہا ہے، ایسا پہلے نہیں تھا، جن بوتل سے نکل چکا ہے، اب کوئی نہیں سوچے گا کہ وہ قانون سے بالاتر ہے، ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں ادارے خود مختار ہو رہے ہیں۔Related imageہم بڑے بڑے قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈال رہے ہیں، قانون سازی کیلئے بھی اقدامات کررہے ہیں، 6 نئے قانون اسمبلی میں لے کر آرہے ہیں، دنیا کے کئی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، آنے والے دنوں میں قرضوں سے نکل جائیں گے، سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ گزشتہ 60 برسوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، بڑھتی ہوئی آبادی پر فوری توجہ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ وسائل محدود اور ضرورت لامحدود ہیں، گزشتہ 60 سال میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی، بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل مسلسل دباؤ کا شکار رہے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آبادی ایسے ہی بڑھتی رہی تو 30 سال بعد پاکستان کی آبادی 45 کروڑ ہوگی، بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے سپریم کورٹ نے جو حصہ ڈالنا تھا وہ ڈال دیا ہے اب  ہمیں آبادی پر قابو پانے کیلئے آگاہی پھیلانی ہے اور اس حوالے سے عملی  کام کرنے کا وقت ہے کیونکہ پاکستان کی بقا کیلئے ہم نے آبادی کو کنٹرول کرنا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply