مولانا سمیع الحق کا قتل دہشت گردی نہیں تفتیشی ٹیم کی ابتدائی رپورٹ

0

مولانا سمیع الحق پر حملہ تقریباً ساڑھے 6 بجے کیا گیا جب وہ راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے سفاری ولاز میں اپنی رہائش گاہ پر اکیلے تھے معروف عالم دین کے ملازم گھر سےسودا سلف لینے باہر گئے تھے ۔۔۔۔۔

راولپنڈی (میزان نیوز) جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ اور سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق قاتلانہ حملہ میں جاں بحق ہوگئے، مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملے کی ابتدائی رپورٹ مکمل کرلی گئی جس میں تحقیقاتی ٹیم نے دہشت گردی کے عنصر کو رد کردیا گیا ہے، مولانا سمیع الحق پر راولپنڈی میں نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں گھر کے اندر قاتلانہ حملہ کیا گیا، جس میں ان کی موت واقع ہوئی، نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سابق سینیٹر مولانا سمیع الحق کے بیٹے حمیدالحق نے تصدیق کی کہ ان کے والد کو چھریوں کے وار کرکے قتل کیا گیا، رپورٹس کے مطابق جب مولانا سمیع الحق پر حملہ ہوا، وہ گھر میں اکیلے تھے، ان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ ان کے محافظ، جو ان کے ڈرائیور بھی تھے نے بتایا کہ وہ کچھ وقت کیلئے انہیں کمرے میں اکیلا چھوڑ کر باہر گئے اور جب وہ واپس آئے تو انہیں شدید زخمی حالت میں پایا، مولانا سمیع الحق کو زخمی حالت میں قریبی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوئے، مولانا سمیع الحق مدرسہ اکوڑہ خٹک کے مہتمم تھے، افغان طالبان سے مذاکرات میں ان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، کیونکہ افغان طالبان کے کئی رہنما ان کے شاگرد رہے تھے، اسی وجہ سے ان پر مولانا سمیع الحق کا بہت حد تک اثر مانا جاتا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ کل دوپہر 2 بجے ادا کی جائے گی، صوبہ پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے معروف عالم دین مولانا سمیع الحق کے قتل کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی۔سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ادارے نے فرانزک لیبارٹری کے ساتھ مل کر موقع سے شواہد محفوظ کرلئے، ان کا کہنا تھا کہ مولانا سمیع الحق پر حملہ تقریباً ساڑھے 6 بجے کیا گیا جب وہ راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے سفاری ولاز میں اپنی رہائش گاہ پر اکیلے تھے، انہوں نے بتایا کہ معروف عالم دین کے ملازم گھر سے سودا سلف لینے کیلئے باہر گئے تھے، جب وہ واپس آئے تو مولانا کو زخمی حالت میں دیکھ کر ہسپتال لے کر گئے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ مولانا سمیع الحق پر حملے میں صرف چاقو کا استعمال کیا گیا ہے، سی ٹی ڈی ترجمان کا کہنا تھا کہ جائے وقوع کو سیل کرکے شواہد کو محفوظ کرلیا گیا ہے جس سے تفتیش کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔

Share.

About Author

Leave A Reply