غیرمناسب لباس میں ماڈلنگ کی اجازت نہیں دے سکتے، اعلیٰ عدلیہ

0

اداکارعدنان صدیقی حال ہی میں سری دیوی کی فلم مام میں کام کیا تھا جس میں ان کے ساتھ سجل علی بھی شامل تھیں، فیصل قریشی کے مطابق غیرملکی مواد کی وجہ سے مقامی صنعت متاثر ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

کراچی (میزان نیوز) پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ غیر مناسب لباس میں ماڈلنگ کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں اور یہ طے کرنا ہوگا کہ کتنا غیر ملکی مواد نشر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، کراچی میں سپریم کورٹ میں سنیچر کو یونائیڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے عدنان صدیقی، فیصل قریشی، ثمینہ احمد اور دیگر معروف فنکار اور پروڈیوسر عدالت میں پیش ہوئے اور پاکستانی ٹی وی چینلز پر انڈین مواد کی نشریات کی شکایت کی، چیف جسٹس ثاقب نثار نے سینیئر اداکارہ ثمینہ احمد سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ نے تو میرے منہ کی بات چھین لی، ایسے ایوارڈ شوز دکھائے جارہے ہیں جو مسلم معاشرے کیلئے قابل قبول نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب لبرل ہیں مگر غیر مناسب لباس پر ماڈلنگ کی اجازت نہیں دے سکتے، کیا ہماری بہن بیٹیاں یہ لباس پہن سکتی ہیں، چیف جسٹس نے فیصل قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو خود مارننگ شو کرتے ہیں، خواتین کو کون سا لباس پہنواتے ہیں، یہ کون سے مارننگ شوز ہیں، یہ کونسا کلچر دینا چاہ رہے ہیں، میں نہیں کہہ رہا کہ برقع پہن کر آجائیں مگر بے حیائی بھی برداشت نہیں کریں گے، آپ لوگ سندھ، بلوچ اور دیگر کلچر کو فروغ کیوں نہیں دیتے، کیا آپ کے ملک کا کلچر ختم ہوگیا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کتنا غیرملکی مواد نشر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

Image result for supreme court karachi

انھوں نے اداکاروں کو ہدایت کی وہ تحریری درخواست دیں جس پر پیمرا اور تمام چینلز سے رپورٹ طلب کریں گے، یونائیڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی جانب سے مظاہرہ بھی کیا گیا، ان موقعے پر اداکار اور پوڈیوسر عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ جو بھی ہیں ٹی وی چینلز کی وجہ سے ہیں وہ صرف غیر ملکی مواد کے خلاف ہیں پھر چاہے وہ انڈین ہو یا انگریزی ہو، اسے نشر کرنے کی ایک شرح ہونے چاہیئے وہ دس فیصد سے زیادہ نہ ہو، انھوں نہ کہا کہ جب آپ اپنے ملک میں لوگوں کو زیادہ مواقعے دیں گے تو روزگار بھی ملے گا اور مواقعے بھی ملیں گے، معیار بھی بہتر ہوگا اور مقابلے کا رجحان آئے گا، یاد رہے کہ عدنان صدیقی حال ہی میں سری دیوی کی فلم مام میں کام کیا تھا، جس میں ان کے ساتھ سجل علی بھی شامل تھیں، فیصل قریشی کے مطابق غیرملکی مواد کی وجہ سے مقامی صنعت متاثر ہو رہی ہے مقامی پروڈیوسر متاثر ہو رہا ہے، ہم جو ایک سوپ ڈرامہ بناتے ہیں اگر وہ ڈھائی یا تین کروڑ میں بنتا ہے تو اس کے برعکس وہ انڈیا سے ڈھائی سو تین سو قسطیں ایک کروڑ میں اٹھالیتے ہیں، یہ پیسہ جا کیسے رہا ہے یہ کوئی نہیں دیکھ رہا۔

Share.

About Author

Leave A Reply