عمران خان میرے ہیرو ہیں، چاہتی ہوں خلیفہ بن جائیں، عافیہ صدیقی

0

امریکی شہر ہیوسٹن میں قید عافیہ صدیقی سے 9 نومبر 2018ء کو پاکستانی قونصل جنرل سے ملاقات کی جس میں عافیہ صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا کہ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں ۔۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکہ میں قید پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان سے کچھ چیزیں چاہتا ہے اور ان کے عوض وہ عافیہ صدیقی کو پاکستان لوٹانے کیلئے تیار ہے، فوزیہ صدیقی کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس طرح کے اشارے ملے ہیں تاہم امریکہ کے مبینہ مطالبات کے بارے میں تفصیلات وہ وزیرِ خارجہ سے ملنے سے پہلے بیان نہیں کر سکتیں، گزشتہ روز پاکستانی دفترِ خارجہ کی ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ امریکی شہر ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل جنرل وقتاً فوقتاً عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتے ہیں، تازہ ترین ملاقات نو اکتوبر 2018ء کو ہیش آئی جس میں عافیہ صدیقی نے وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام میں کہا کہ وہ پاکستان آنا چاہتی ہیں، عافیہ صدیقی نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ عمران خان کو اپنے ہیروز میں سے ایک گنا ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان تمام مسلمانوں کے خلیفہ بن جائیں۔واضح رہے کہ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا ہے کہ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ایلس ویلز کے حالیہ دورہِ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا اور ایلس ویلز نے پاکستانی درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے، اس کے علاوہ پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے جلد اسلام آباد میں ملاقات کریں گے، یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو جولائی دو ہزار آٹھ میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزا اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہو سکتا تھا، حکام کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزاء اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا کر فوجیوں پر گولیاں چلائیں، اس حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا، ڈاکٹر عافیہ کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ عافیہ نے بدحواسی کی کیفیت میں رائفل چھینی اور فائرنگ کی، ان کا موقف تھا کہ عافیہ کے اس عمل کا دہشت گردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا، عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا تھا، عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے دعویٰ کیا کہ جون میں ایک پاکستانی قونصلر کی ملاقات کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی جیل حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تم اپنا دین(نظریات) بدل لو تو تمھیں فوراً رہا کردیں گے، فوزیہ صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق عافیہ صدیقی کو جنسی طور پر بھی ہراساں کیا جارہا ہے اور انھیں عبادت بھی نہیں کرنے دی جارہی، فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ عافیہ صدیقی کو واپس لایا جا سکتا ہے، امریکہ کے نائب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بروس شوارٹس نے ایک خط میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اس معاہدے میں شرکت کر لیتا ہے جس کے تحت مجرمان کو اپنے ملک منتقل کیا جا سکتا ہے تو امریکہ عافیہ صدیقی کو واپس بھیجنے کیلئے تیار ہوگا۔

Share.

About Author

Leave A Reply