عدالتِ عظمیٰ نے توہین عدالت کا نیا قانون کالعدم قرار دےدیا

0

دو ہزار تین کے توہینِ عدالت کے قانون کو بحال رکھنے کا حکم، بعض شقیں آئین سے متصادم ہیں، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ

اسلام آباد (میزان نیوز) سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے نئے قانون کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دو ہزار تین کے توہینِ عدالت کے قانون کو بحال رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ توہین عدالت کا پُرانا قانون بارہ جولائی سے ہی نافذ العمل ہوگا جس دن سے توہین عدالت کا نیا قانون لاگو کیا گیا تھا۔ جمعہ کو نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں پر مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے کہا ہے کہ اس قانون میں جو بھی ترامیم کی گئی ہیں وہ پاکستان کے آئین سے متصادم ہیں۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کچھ لوگوں کو استثنیٰ دینا آئینِ پاکستان کے منافی ہے جو کہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہے اس لئے عوامی عہدہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو توہینِ عدالت سے استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔ مختصر فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ نئے قانون کا سیکشن تین آئین سے متصادم اور سیکشن آٹھ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین کے سیکشن دو سو اڑتالیس کے تحت سرکاری عہدہ رکھنے والے کسی شخص کو توہین عدالت کرنے پر استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

کالعدم قرار دیئے گئے قانون کے سیکشن تین کے تحت وزیراعظم، وفاقی وزراء اور دیگر افراد کو سرکاری امور کی انجام دہی میں توہین عدالت کے مرتکب قرار نہیں دیا جاسکتا جبکہ اس کے علاوہ عدلیہ سے متعلق ایسے ریمارکس جو کہ نیک نیتی سے دیئے گئے ہوں اُن پر بھی توہین عدالت نہیں لگےگی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں ججز کے کردار کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا اور اس نئے قانون کےتحت اپیل کے حق کو تیس دن سے بڑھا کر ساٹھ دن کرنا انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ نے نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے لئے متعلقہ حکام کو خط لکھنے کیلئے آٹھ آگست کی مہلت دی ہے۔ توہین عدالت کے نئے قانون سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران حکومت کے وکیل عبدالشکور پراچہ یہ کہہ چکے ہیں کہ اس نئے قانون کا مقصد نئے وزیراعظم کو توہین عدالت سے بچانا ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی حیثیت میں کسی کو کوئی استثنیٰ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عدالت مقننہ اور انتظامیہ کے ہاتھ مضبوط کرنے کیلئے اُن کے ساتھ چلے تاکہ ملک میں جمہوری ادارے تقویت پکڑ سکیں۔اس پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ کسی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کرچلنا عدالتوں کا کام نہیں ہے، عدالتیں غیر جانبدار ہوتی ہیں اور کسی سے مک مکا نہیں کرتیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply