عالمی بائیکاٹ: عمران نے سعودیوں کے شانے دبانے کا انتخاب کیا

0

پاکستان میں انسانی حقوق کےعلمبرداروں نےخاشقجی کے بیہیمانہ قتل پرعمران خان کی جانب سے آنکھیں بند کرنے اور سعودی بادشاہ شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے قربت بڑھانے پر تنقید کی ہے۔۔۔۔۔۔

لاہور/ اسلام آباد (میزان نیوز) حجاز مقدس پر مسلط آل سعود خاندان کے ناقد اور عرب جمہوری ریاست بنانے کی جہد وجہد کرنے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی وجہ سے متعدد ممالک، یورپی یونین اور عالمی ادارے اقوام متحدہ نے سعودی سرمایہ کاری اجلاس کے بائیکاٹ کے باوجود پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے سعودیوں کے شانے دبانے کا انتخاب کیا تا کہ امداد حاصل کی جا سکے، سوشل میڈیا کا رد عمل، پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستانی وزیر خزانہ اسد عمر اور سعودی وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدعان نے مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کردیئے ہیں، اس میں اتفاق ہوا ہے کہ سعودی عرب ایک سال کے عرصے کیلئے ادائیگیوں میں توازن لانے کیلئے تین ارب امریکی ڈالرز پاکستان میں جمع کرائے گا، اسی طرح تین ارب ڈالر تک کا قرضہ سعودی عرب سے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر ادائیگیوں میں چھوٹ کی صورت دیا جائے گا، اسی ہفتے کے آغاز میں عمران خان نے اخبار دی انڈیپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی حکومت کے ایک بڑے ناقد کے قتل نے انہیں حیرت زدہ کر دیا تھا لیکن ریاض کے ان کے دورے کا مقصد اپنے ملک کو تاریخ کے شدید ترین مالی بحران سے نکالنے کیلئے اس امکان کو استعمال کرنا تھا، ہم قرض کیلئے بے تاب ہیں، جب تک ہمیں دوست ممالک یا عالمی مالیاتی ادارے سے پیسے نہیں ملتے، تو ہمارے پاس اپنے قرضے اتارنے، درآمدات یا دیگر ضروریات کیلئے زرمبادلہ نہیں ہوگا، لہٰذا جب تک ہم قرضہ حاصل نہیں کریں یا باہر سے سرمایہ کاری نہیں ہوگی، ہمارے لئے واقعی مسائل ہوں گے، پاکستان میں انسانی حقوق کے علمبرداروں نے خاشقجی کے بیہیمانہ قتل پر عمران خان کی جانب سے آنکھیں بند کرنے اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے ایک ایسے وقت میں قربت بڑھانے پر تنقید کی ہے، جب بین الاقوامی برادری ان پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں ہے، صحافی عمر چیمہ نے اس موضوع پر اپنی طنزیہ ٹویٹ میں کہا: عمران خان ( آئی کے) نے دنیا کو بتا دیا کہ وہ بے چین و بیتاب ہیں، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ایک ایسے وقت پر ریاض کا دورہ کر رہے ہیں، جب خاشقجی کے قتل کے حوالے سے نئے شواہد کے سبب  ال سعود خاندان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے، بابر کی ٹویٹ کے مطابق بادشاہت کی تنہائی اور پریشانی کا شکار شہنشاہیت بظاہر فنانشل بیل آؤٹ کیلئے جگہ پیدا کرنے پر راضی دکھائی دیتی ہے، معروف ٹی وی اینکر طلعت حسین نے بھی سعودی عرب سے قرض لینے پر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔حسین نے ٹویٹ کیا شدید مالی مشکلات میں گھر ے ممالک کی جانب سے عوامی سطح پر یہ نہیں کہا گیا کہ ہم قرض کیلئے بے چین ہیں، دوسری جانب عمران خان کے حامی اس امدادی پیکج کو ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کررہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ پاکستان ریاض حکومت کے ساتھ کوئی تنازعہ برداشت نہیں کرسکتا کیونکہ سعودی عرب کئی دہائیوں سے پاکستان کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے، انسانی حقوق کے کچھ علمبرداروں اور چند سیاسی ماہرین کو ابھی سے یہ خطرہ ظاہر کررہے ہیں کہ اس امداد سے پاکستان پر سعودی اثر و رسوخ بڑھے گا، پاکستان میں فرقہ واریت ایک عام سی بات ہے کیونکہ سعودی عرب اس جنوبی ایشیائی ریاست میں ایران کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ریاض سخت گیر سنی گروپوں، سیاسی جماعتوں اور مدرسوں کی حمایت کرتے ہوئے وہابی طرز کے عقائد کی ترویج میں مصروف ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply