طالبان کمانڈر ملّا عبدالمنان کی ہلاکت باغیوں کیلئے بہت بڑا دھچکہ ہے

0

امریکی حملے میں ملّا سمیت 29 دیگر طالبان ہلاک ہوئے تھے طالبان نے افغان شہریوں کی زندگیوں کو کوئی اہمیت نہیں دی وہ ووٹ کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کرسکتے اس لئے دہشت پھیلا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

کابل (میزان نیوز) افغانستان میں امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں طالبان کے سینیئر کمانڈر ملا عبدالمنان اخوند ہلاک ہو گئے ہیں، غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق افغان طالبان نے ملا عبدالمنان اخوند کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا تک اپنی جدو جہد جاری رکھیں گے، دوسری جانب افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان نجیب دانش نے کہا ہے کہ ملا عبدالمنان کی موت طالبان کیلئے بہت بڑا دھچکہ ہے، واضح رہے کہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات افغان صوبے ہلمند کے ضلع نوزاد میں امریکی طیاروں نے افغان طالبان کے مشتبہ ٹھکانے پر حملہ کیا، جس میں 29 طالبان ہلاک اور کئی زخمی ہوئے، ہلاک ہونے والوں میں طالبان کی جانب سے ہلمند کیلئے مقرر کئے گئے گورنر اور عسکری سربراہ ملا عبدالمنان اخوند بھی شامل ہیں، خیال رہے کہ ایک روز قبل امریکی وزیر جنگ جِم میٹس نے جنگ کے خاتمے سے متعلق حکمت عملی کے بارے میں وضاحت دی کہ اس حکمت عملی میں امریکی فوجیوں کی افغانستان سے بے دخلی شامل نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ اب جنگ ختم ہوجانی چاہیئے کیونکہ سویت یونین کے حملے سے لیکر آج 40 برس جنگ کو ہوچکے ہیں۔Related imageیہ عرصہ بہت ہوتا ہے، جِم میٹس نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کا یہ ٹھیک وقت ہے اور افغانستان کے شہریوں کو ان کے ٹھیک راستے پر چھوڑ دیا جائے، کیلیفورنیا میں قومی دفاعی حکمت عملی سے متعلق ایک اجلاس میں انہوں نے زور دیا کہ افغانستان میں امن کا حصول عالمی فریقین سمیت خطے کے اہم کرداروں کی بدولت ممکن ہے، جِم میٹس نے واضح کیا کہ ہمیں خطے کے دیگر ممالک اور اقوام متحدہ کی مدد حاصل کرنی ہوگی، سیکریٹری دفاع جِم میٹس نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی امن کے راہ میں حقیقی امید دیکھ رہے ہیں، واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے ساتھ ہی خطے میں امن کی بحالی پر زور دیا تھا، باغی طالبان کو کابل میں انتظامی امور میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا تاہم انہیں افغان حکومت کا تختہ الٹنے نہیں دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ طالبان نے افغان شہریوں کی زندگیوں کو کوئی اہمیت نہیں دی، وہ ووٹ کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کرسکتے اس لئے دہشت پھیلا رہے ہیں

Share.

About Author

Leave A Reply