طالبان مذاکراتی ٹیم کیساتھ وزیراعظم ہاؤس میں مذاکرات ہونگے

0

فائربندی اور طالبان کی رہائی ابھی قبل ازوقت ہیں ماحول ساز گار ہوگا تو بات آگے بڑھے گی، طالبان کمیٹی کا اعلان

اسلام آباد (میزان نیوز) حکومتِ پاکستان کی جانب طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے بنائی گئیtaliban comm کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکومت اور طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کا اجلاس منگل کی دوپہر ہوگا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے مفتی کفایت اللہ نے طالبان کے وفد کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے، ابتدائی مذاکرات وزیراعظم ہاؤس میں ہونگے، حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ حکومت اور طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کی پہلی ملاقات اسلام آباد میں منگل کو دوپہر دو بجے ہوگی، عرفان صدیقی نے بتایا تھا کہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے رکن اور جمعیت علمائے اسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے ان سے فون پر رابطہ کیا ہے، مولانا سمیع الحق نے مجھے ٹیلی فون کیا اور نیک خواہشات کے ساتھ کہا کہ ہم آپ سے ملنے کیلئے آنا چاہتے ہیں، انھوں نے مشاورت کیلئے وقت مانگا اور دوبارہ فون کرکے دو بجے ملنے کی تجویز دی، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکراتی ٹیم میں شامل جمیعت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ طالبان نے مذاکرات کیلئے کوئی شرط نہیں رکھی، انھوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کیساتھ بات چیت کے بعد مذاکرات کے طریقہ کار اور مقام کو حتمی شکل دی جائے گی، وہ اسلام آباد میں کمیٹی کے ارکان پروفیسر محمد ابراہیم اور مولانا عبدالعزیز کے ہمراہ صحافیوں سے باتیں کر رہے تھے، انھوں نے کہا کہ اس عمل کو جلد مکمل کرنے کے لیے ہر کوشش کی جائے گی تاہم اس وقت نظام الاوقات دینا ممکن نہیں ہے۔

دوسری طرف طالبان کی رابطہ کار کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم خان نے کہا ہے کہ حکومتی کمیٹی سے آج کی ملاقات میں ماحول ساز گار بنانے پر بات ہوگی ، جنگ بندی، طالبان کی رہائی اور دیگر مطالبات ابھی قبل ازوقت ہیں جبکہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی رفتار تیز کرنا ہوگی، طالبان کی رابطہ کار کمیٹی کے رکن اور جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ ماحول ساز گار ہوگا تو بات آگے بڑھے گی، ان کا کہنا تھا کہ فائربندی، طالبان کی رہائی اور دیگر مطالبات ابھی قبل ازوقت ہیں، طالبان رہنماوں سے ٹیلیفون پر بات ہوئی، طالبان سے مل کر مطالبات معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply