سپریم کورٹ کےفیصلے خلاف مذہبی گروہوں کے احتجاج کا دوسرا دن

0

تحریک لبیک متعلق مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ اسے اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے فیص آباد دھرنا میں اسٹبلشمنٹ کے اعلیٰ افسر کو شرکاء میں رقوم کی تقسیم کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

کراچی/لاہور (میزان نیوز) پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت آسیہ بی بی کو توہین رسالتؐ کے الزام سے بری کئے جانے کے خلاف مذہبی گروہوں کا احتجاج جمعرات کو بھی جاری ہے، کراچی کے علاقے تین ہٹی میں تحریکِ لبیک کے کارکنان، جن میں بچوں اور کی بڑی تعداد بھی شامل ہے دھرنا دیئے ہوئے ہیں، کراچی میں کے مختلف علاقے جیسے بلدیہ ٹاؤن، شارع فیصل، اسٹار گیٹ، نمائش چورنگی، سہراب گوٹھ اور سرجانی ٹاؤن فور کے چورنگی پر بھی درجنوں افراد دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، بلدیہ ٹاؤن جانے والی سڑک بند ہے جبکہ شیر شاہ سے بلدیہ جانے والی ٹریفک کا رُخ لیبر اسکوائر کی طرف موڑ دیا گیا ہے، لاہور میں شدت پسبد افرد نے شاہراہیں بند کی ہوئی ہیں، صبح سے ہی ڈنڈا بردار نوجوان نے سڑکوں پر رکاوٹیں لگاکر بند کردیا ہے، جسکی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، سرگودھا سے اسلام آباد تک موٹر وے ایم ٹو ٹریفک کیلئے گزشتہ رات ساڑھے گیارہ بجے کھول دی گئی تھی لیکن دوسری جانب آج علی الصبح ہی موٹروے پر مذہبی جماعتوں کے کارکنان سے بھری کئی بسیں اور ٹرک لاہور کی جانب جاتے دیکھے گئے تاہم موٹر وے پولیس کی جانب سے مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفر سے اجتناب کریں جبکہ بالکسر سے اسلام آباد موٹروے پر بھی ٹریفک کا داخلہ بند ہے، موٹروے ایم-2 پنڈی بھٹیاں سے لاھور، پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد اور فیصل آباد سے گوجرہ بھی تمام قسم کی ٹریفک کیلئے بند ہے، ٹیکسلا، روات، مندرہ،گجر خان، سوہاوہ، دینہ، کھاریاں، گجرات، کامونکی، چن دا قلعہ، تاوی ریان، مریدکے، سادھوکی ٹریفک کے مقام پر روڈ بلاک ہے، سندھ میں پنو عاقل گمپٹ اور نیازی چوک کے مقامات پر بھی ٹریفک بلاک ہے، بلوچستان میں ھب، وندر اور قلات کے مقامات پر بھی ٹریفک بلاک ہے۔مذہبی جماعتوں کا احتجاج: سڑکیں بلاک، عوام کو پریشانی کا سامناپشاور میں رنگ روڈ پر واقع پیر زکوڑی پل پر درجنوں افراد نے راستہ بند کر رکھا ہے اور ان کا دھرنا جاری ہے، شہر میں تمام نجی تعلیمی ادارے سکیورٹی کے پیش نظر بند ہیں، مختلف تنظیموں نے آج احتجاج کی کال دے رکھی ہے، پشاور پولیس نے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی سکیورٹی بڑھا دی ہے، دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی ملاقات ہے جس میں ملک کی عمومی صورتحال اور اہم امور پر گفتگو کی گئی، شدت پسند تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی نے جمعہ کو پورے ملک میں ہڑتال اور عوامی ریفرینڈم کراونے کا اعلان کیا ہے، اس تنظیم کے متعلق مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ اسے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے، فیص آباد دھرنے میں اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ افسر کو شرکاء میں رقوم تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

Share.

About Author

Leave A Reply