سعودی صحافی خاشقجی کے ٹکڑے کرکے تیزاب میں تحلیل کردیا، ترکی

0

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ کو بتایا تھا کہ جمال خاشقجی اخوان المسلمین کے رکن تھے ان کے نزدیک قتل کیے گئے صحافی جمال خاشقجی ایک خطرناک اسلامی شدت پسند ہیں ۔۔۔۔۔

انقرہ (میزان نیوز) ترکی کے ایک اعلی اہلکار اور صدارتی مشیر یاسین اکتے نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کر کے تیزاب میں تحلیل کردیئے گئے ہیں، ان کے مطابق اِس معاملے کا منطقی نتیجہ یہی اخز کیا جا سکتا ہے کہ جن لوگوں نے سعودی صحافی کو ہلاک کیا انھوں نے ان کے جسم کو ختم کردیا تاکہ کوئی سراغ باقی نہ رہے، یاسین اکتے نے مقامی اخبار حریت ڈیلی کو بتایا خاشقجی کے جسم کے ٹکڑے کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انھیں با آسانی تیزاب میں تحلیل کردیا جائے، ترکی کے صدارتی مشیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے عالمی رہنماوں سے اپیل کی ہے کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹھرے میں لایا جائے، خاشقجی سعودی حکمرانوں کے بڑے ناقدین میں سے تھے جنھیں استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کیا گیا، اس سے پہلے میڈیا اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ کو بتایا تھا کہ ان کے نزدیک قتل کیے گئے صحافی جمال خاشقجی ایک خطرناک اسلامی شدت پسند ہیں، اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے سعودی ولی عہد نے کی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں ہلاکت کو تسلیم کرنے سے پہلے ولی عہد نے وائٹ ہاؤس فون کیا تھا، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور نیشنل سکیورٹی کے مشیر جان بولٹن سے وائٹ ہاؤس میں ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں کہا تھا کہ جمال خاشقجی اخوان المسلمین کے رکن تھے، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ ٹیلی فون جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے ایک ہفتے بعد 9 اکتوبر کو کی گئی تھی، سعودی ولی عہد نے اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس پر زور دیا تھا کہ وہ امریکہ سعودی اتحاد کو قائم رکھے، دوسری جانب جمال خاشقجی کے خاندان کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ کو جاری کیے جانے والے بیان میں اس بات کی تردید کی ہے خاشقجی اخوان المسلمین کے رکن نہیں تھے اور انھوں نے خود حالیہ برسوں میں متعدد بار اس کی تردید کی تھی۔اس سے پہلے جمعرات کو ترکی کی حکومت کی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی موت کے بعد باضابطہ طور پر پہلا پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے ہی ان کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا، ترکی کی جانب سے مرکزی پراسیکیوٹر عرفان فدان نے کہا کہ ان کی سعودی حکام سے ملاقات میں کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلا جبکہ سعودی عرب نے ان ملاقاتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، ترکی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلے سے تیار منصوبے کے تحت صحافی جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں داخلے کے ساتھ ہی گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انھی منصوبوں کے تحت جمال خاشقجی کے جسم کو آری کی مدد سے ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا، سعودی حکومت کے ناقد جمال خاشقجی کی لاش ابھی تک نہیں ملی ہے لیکن دونوں ممالک کے حکام اس بات پر متفق ہیں کہ انھیں قونصل خانے میں ہی قتل کیا گیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply