خاشقجی قتل کا حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ سطح سے آیا تھا،اردوآن

0

جمال خاشقجی کی لاش کہاں گئی ان کی باقیات کو کس مقامی سہولت کار کے حوالے کیا گیا اور انکے قتل کا حکم کس نے دیا بدقمستی سے سعودی حکام ان سوالوں کے جوابات دینے سے انکار کرچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) ترک صدر رجب طیب اردوان نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے قتل کا حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ سطح سے آیا تھا، واشنگٹن پوسٹ میں شائع اپنے مضمون میں ترک صدر رجب طیب اردوآن نے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کی کہانی سے ہر کوئی واقف ہے جس کے ہر پہلو سے تفتیش کیلئے ترکی نے زمین و آسمان چھان لیا جس کے نتیجے میں دنیا کو معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک منظم قتل تھا، انہوں نے مزید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جمال خاشقجی کی لاش کہاں گئی، ان کی باقیات جس کے حوالے کی گئیں وہ مقامی سہولت کار کون تھا اور ان کے قتل کا حکم کس نے دیا یہ سوالات حل طلب ہیں، ترک صدر نے کہا کہ بدقمستی سے سعودی حکام ان سوالوں کے جوابات دینے سے انکار کرچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ مجرمان ان 18 مشتبہ افراد میں سے ہیں جن کو سعودی عرب میں حراست میں لیا گیا ہے اور ہم ان افراد کو بھی جانتے ہیں جنہوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خاشقجی کو قتل کیا اور واپس گئے، طیب اردوآن نے وضاحت کرتے ہوئے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ خاشقجی کو قتل کرنے کا حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ سطح سے آیا تھا۔—فوٹو:اے ایف پیترک صدر نے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض لوگوں کو امید ہے کہ یہ مسئلہ وقت کے ساتھ چلا جائے گا لیکن ہم یہ سوالات پوچھتے رہیں گے جو ترکی میں تفتیش کیلئے اہم ہیں اور خاشقجی کے خاندان اور چاہنے والوں کیلئے بھی اہم ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کے قتل کے ایک ماہ بعد بھی ہمیں نہیں معلوم کہ ان کی لاش کہاں ہے، وہ اسلامی اقدار کے مطابق تدفین کے حق دار ہیں، ترک صدر کا کہنا تھا کہ ہم ان کے خاندان، دوستوں اور واشنگٹن پوسٹ سمیت دیگر ساتھیوں کو انہیں الوداع کہنے کا موقع دینا چاہتے ہیں، امریکا سمیت پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کو یقینی بنانے کیلئے دنیا ان سوالات کو پوچھتی رہے، ہم ثبوت اپنے دوستوں اور اتحادیوں سمیت امریکا کو دے چکے ہیں، ترک صدر نے سعودی فرماں روا پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سوالات کے باوجود میں اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں کہ ترکی اور سعودی کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میں ایک لمحے کیلئے بھی یہ نہیں مانتا کہ شاہ سلمان نے خاشقجی کو نشانہ بنانے کا حکم دیا ہو، اس لئے میرے پاس یہ ماننے کی وجہ نہیں کہ اس قتل میں سعودی سرکاری پالیسی کا عکس ہے، خیال رہے کہ جمال خاشقجی سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے جو گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے تاہم 2 اکتوبر 2018ء کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، تاہم ترک ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

Share.

About Author

Leave A Reply