خاشقجی قتل میں سعودی ولی عہد ملوث ملزمان ترکی حوالے کیا جائے

0

ترکی کے صدر اردوغان کے مطابق سعودی عرب میں مقدمے کی کارروائی اطمینان بخش نہیں امریکی سی آئی اے مطابق محمد بن سلمان اور خصوصی مشیر کے درمیان قتل وقت پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے پہلے اور بعد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر کے درمیان 11 پیغامات کے تبادلے ہوئے تھے، جی ٹوئنٹی سربراہ اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ سعودی عرب میں مقدمے کی کارروائی اطمینان بخش نہیں ہے، سعودی عرب ملزمان کو ترکی کے حوالے کرے، انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صرف کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ اٹھایا اور سعودی ولی عہد نے اس کیس میں سعودی حکومت کے کردار سے متعلق ناقابل یقین توجیہات پیش کی ہین، دوسری جانب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے پہلے اور بعد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر کے درمیان 11 پیغامات کے تبادلے ہوئے تھے، امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی انتہائی خفیہ رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر کے درمیان قتل کے وقت پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا، اخبار کے مطابق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ جمال خاشقجی کا قتل محمد بن سلمان کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ترکی کا سعودی عرب سے خاشقجی کے قاتلوں کوحوالے کرنے کا مطالبہسی آئی اے کے ترجمان نے مذکورہ رپورٹ پر تبصرے سے انکار کردیا، واضح رہے کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں سعودی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے قتل کردیا گیا تھا اور اُن کی لاش کو لاپتہ کردیا گیا تھا، ترک حکام کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے شواہد ملے ہیں جن کے مطابق جمال خاشقجی کی لاش کو تیزاب میں گلا دیا گیا تھا، سعودی ولی عہد اندرون ملک اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کیلئے مشہور ہیں، یہ آل سعود کی بادشاہت کے پہلے ولیعہد ہیں جو بادشاہ کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ماورائے عدالت بھی قتل کا حکم دیتے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply