خاشقجی کا قتل: سعودی عرب کے مغربی اتحادیوں کیلئے درد سر بن گیا

0

سعودی ولی عہد کی قسمت کا فیصلہ ترک صدر کے ہاتھ میں ہے وہ جانتے ہیں کہ ولی عہد بن سلمان کے حکم پر جمال خاشقجی کا قتل کیا گیا اور اسکے ناقابلِ تردید ثبوت ترک ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔

ریاض (میزان نیوز) سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے صرف سعودی بادشاہ اور ترکی کے تعلقات کو پیچیدہ نہیں کیا بلکہ یہ قتل سعودی عرب کے سیاسی اور تجارتی مغربی اتحادی ممالک کیلئے بھی ایک درد سر بن گیا ہے، اس نے جواں سال سعودی ولی عہد کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کر دیا جو آنے والی کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ کے اس اہم ملک کی حکمرانی کرنے کے خواہشمند ہیں، امریکہ میں یہ صورت حال انتہائی گمبھیر ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ کی دلی خواہش اس امید سے بندھی ہے کہ بہت جلد یہ معاملہ ماضی کا حصہ بن جائے گا وہیں کیپٹل ہل پر بہت سی اہم سیاسی شخصیات کی طرف سے یہ زور دیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیئے، سعودی امور کے ماہرین اور بہت سے تھنک ٹینک بھی اس خیال کے حامی ہیں، جمال خاشقجی کے قتل کے محرکات اور ان کی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا، ان تمام تفصیلات کا سامنے آنا باقی ہے لیکن اس بنیادی سوال کا جواب کہ اصل میں کس نے ان کے قتل کا حکم صادر کیا شاید کبھی نہ مل سکے، تمام شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح یعنی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے جاری کیا گیا تھا، سلطنت کے تمام امور خودسر شہزادے محمد بن سلمان کے ہاتھ میں ہیں۔ جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے تمام افراد محمد بن سلمان کے ماتحت کام کرتے تھے اور سعودی عرب کے امور کے تمام ماہرین کا متفقہ خیال یہ ہے کہ سعودی عرب میں اگر اس کا حکم اعلیٰ ترین سطح سے جاری نہ کیا گیا ہو تو اس طرح کی واردات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، بہت کچھ اس بات سے مشروط ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے براہ راست اس قتل میں ملوث ہونے کے کتنے شواہد موجود ہیں لیکن یہ مانا جارہا ہے کہ ولی عہد کی قسمت کا فیصلہ ترک صدر طیب اردوگان کے ہاتھ میں ہے۔Related imageوہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ولی عہد بن سلمان کے حکم پر جمال خاشقجی کا قتل کیا گیا اور اس کے ناقابلِ تردید ثبوت ترک ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں، سعودی ولی عہد کے بادشاہ بننے کے امکانات کا انحصار اس بات پر ہے کہ اُن کے ہاتھ خاشقجی کے خون سے رنگین نہ ہوں، سعودی بادشاہ کا انحصار سامراجی ملکوں امریکہ اور برطانیہ کی حمایت پر ہے، ٹرمپ کا کم سےکم یہ کہنا بلکل درست ہے کہ امریکی حمایت کے بغیر سعودی بادشاہت دو ہفتے بھی قائم نہیں رہ سکتی اور وہ نہیں چاہیں گے کہ ایک قاتل شہزادے کو بادشاہ تسلیم کریں۔

Share.

About Author

Leave A Reply