بلوچستان میں پنجابی شہر یوں خلاف دہشت گرد کارروائی مزید 5 افراد ہلا ک

0

کمشنر مکران ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں گولی لگنے کیوجہ سے ہلاک ہونیوالے ان تمام افراد کا تعلق پنجاب سے ہے ۔۔

کوئٹہ (میزان نیوز) پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پانچ مزید ایسے افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے، یہ لاشیں ضلع میں تجابان اور ہیرونک کے درمیانی علاقے سے برآمد کی گئیں، کمشنر مکران ڈویژن بشیر احمد بنگلزئی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کا تعلق پنجاب سے ہے جن کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے، بعض دیگر حکام کے مطابق ان میں سے تین افراد کی شناخت ہوئی ہے جن کا تعلق پنجاب کے علاقے گجرات سے ہے، حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی شناخت ان کے پاس سے برآمد ہونے والی دستاویزات سے ہوئی ہے، واضح رہے کہ تین روز قبل بھی ضلع کیچ کے علاقے گروک سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی لاشیں برآمد کی گئی تھیں، سرکاری حکام کے مطابق مارے جانے والے یہ لوگ غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کررہے تھے، ان افراد کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی، تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مارے جانے والے افراد سی پیک پر کام کرنے والے مزدور تھے اور وہ ایف ڈبلیو سے منسلک تھے، تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے اس دعوے کو مسترد کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ اب ایف ڈبلیو اس علاقے میں کام نہیں کررہا ہے۔

لاشیں

گزشتہ روز ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی بھی کی تھی، اس کارروائی میں یونس توکلی نامی ایک عسکریت پسند مارا گیا تھا، قوم پرست جماعتوں کی جانب سے ان افراد کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد کی جاتی رہی ہے، پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق مست توکلی کا ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم کے آٹھ بڑے کمانڈروں میں سے ایک تھا اور وہ گروک میں 15افراد کو ہلاک کرنے میں ملوث تھا، ضلع کیچ کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے بد امنی کے واقعات کے رونما ہونے کا سلسلہ کمی و بیشی کے ساتھ جاری ہے، بدامنی کے دیگر واقعات کے ساتھ اس ضلع سے لوگوں کی لاشوں کی ایک بڑی تعداد بھی اب تک برآمد ہوئی ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ضلع اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے تھا، قوم پرست جماعتوں کی جانب سے ان افراد کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد کی جاتی رہی ہے تاہم سرکاری حکام کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا کہ یہ لوگ عسکریت پسند تھے جو کہ مقابلے میں مارے گئے، اگرچہ ضلع میں بد امنی کے واقعات کا کمی و بیشی کے ساتھ رونما ہونے کا سلسلہ جاری ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب وہاں حالات میں بہتری آئی ہے، ضلع کیچ انتظامی طور بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے اس ضلع کے دو دیگر اضلاع گوادر اور پنجگور کی طرح اس کی سرحد ایران سے لگتی ہے، پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے افراد دیگر دو اضلاع کی طرح ضلع کیچ کے غیر معروف راستوں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply