امریکی فضائی حملے میں 23 بیگناہ افغان شہری مارے گئے، اقوام متحدہ

0

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شام اور افغانستان میں شہریوں کو انتہائی درجے کے نقصان کا سامنا ہے رواں برس جنوری سے ستمبرتک 8 ہزار 50 افراد افغانستان میں قتل یا زخمی کردیئے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں امریکی فضائی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 23 افراد جاں بحق ہوئے، فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں موجود اقوام متحدہ مشن نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرین میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے، انہوں نے بتایا کہ امریکی فضائی حملے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے تھے، امریکا کی جانب سے فضائی حملہ 27 نومبر کو ہلمند صوبے میں امریکی اور افغان اسپیشل فورسز کی طالبان جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران کیا گیا، اس حوالے سے نیٹو کا کہنا تھا کہ افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے فضائی حملے کی درخواست کی گئی تھی کیونکہ دہشت گردوں نے علاقے میں اسلحہ ذخیرہ کیا ہوا تھا، قبل ازیں صوبائی حکام نے کہا تھا کہ فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، اسی حوالے سے ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ 18 شہری مارے گئے تھے لیکن اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی تھی، دوسری جانب نیٹو کا کہنا تھا کہ وہ واقعے کی تحقیقات کررہے ہیں، جائے وقوع کے قریب رہائش پذیر حاجی محمد کا کہنا تھا کہ جب طالبان سکیورٹی فورسز سے جھڑپوں کے دوران ایک گھر میں داخل ہوئے، اس وقت فضائی حملہ کیا گیا، انہوں نے بتایا کہ حملے میں 9 جنگجوؤں سمیت کئی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے، اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شام اور افغانستان میں شہریوں کو انتہائی درجے کے نقصان کا سامنا رہتا ہے۔Related imageرپورٹ کے مطابق رواں برس جنوری سے ستمبر تک کے عرصے میں 8 ہزار 50 افراد صرف افغانستان میں قتل یا زخمی کردیئے گئے تھے، خیال رہے کہ 28 نومبر کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے خودکش حملے میں 10 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے تھے، اس سے قبل 23 نومبر کو افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں افغان فوجی اڈے کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 27 اہلکار ہلاک اور 57 زخمی ہوگئے تھے، امریکا کی جانب سے امن مذاکرات پر زور دیئے جانے کے بعد سے طالبان نے افغان فورسز پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے کیونکہ واشنگٹن 17 برس سے جاری تنازع کو ختم کرنے کیلئے راستے تلاش کررہا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply