امریکہ چین تجارتی جنگ ڈونلڈ ٹرمپ پسپا ہوگئے برآمدت پر ڈیوٹی ختم

0

وائٹ ہاؤس کے مطابق بیونس آرئس میں جی 20 دوران ایک عشائیہ میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب جن پنگ کو بتایا کہ امریکہ باہمی تجارتی تنازع 90 روز میں حل کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔

واشنگٹن (میزان نیوز) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی درآمدی مصنوعات پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ 90 دن تک معطل کردیا، خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین اور امریکا کے مابین تجارتی جنگ بندی کا عارضی معاہدہ بیونس آرئس میں جی 20 سمٹ کے دوران طے پایا، وائٹ ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق بیونس آرئس میں ایک عشائیہ کے دوران امریکا کے صدر نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کو بتایا کہ امریکہ باہمی تجارتی تنازع 90 روز میں حل کرنا چاہتا ہے، دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے جی 20 سمٹ میں ماحولیاتی تبدیلی اور دیگر تجارتی تنازع کے بارے میں بات کرنے سے گریز کیا، قبل ازیں امریکا کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی معاہدہ کو مسترد کردیا تھا، واضح رہے کہ اس سال 22 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات کی درآمدات پر تقریباً 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔Image result for us china trade warجس کے بعد چین نے جواباً 128 امریکی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں 25 فیصد تک اضافہ کردیا تھا، واضح رہے کہ امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ کی خواہش تھی کہ وہ چینی سرمایہ کاری اور ایکسپورٹ کو کنٹرول کرنے کیلئے امریکی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کو خود امریکہ کے تجارتی حلقوں نے پسند نہیں کیا، امریکی درآمد اور برآمد کنندگان نے ٹرمپ فیصلے کی شدید مخالفت کی تھی اور 50 ارب ڈالر مالیت کی چینی ٹیکنالوجی پر 25 فیصد ٹیکس نافذ کرنے کی وجہ سے امریکی خزانے کو نقصان پہنچا ہے، رواں برس جون میں چین نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر تجارتی مذاکرات کے دوران چینی مصنوعات پر ٹیکس نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو بات چیت کی تمام تر کوششوں کو لاحاصل سمجھا جائے گا، چین کی سرکاری نیوز ایجنسی پر جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی حکومت نے اقتصادی پابندی بشمول ٹیکس میں اضافہ کرنے کا سوچا تو اقتصادی و تجارتی مذاکرات کیلئے دو طرفہ تمام کوششیں ناکارہ ہو جائیں گی، چین نے امریکہ کو دندان شکن جواب دیکر اُسے پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے، تاریخی طور پر اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ امریکہ اُن قوموں کا احترام کرنے لگتا ہے جو امریکی دھمکیوں اور پابندیوں کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply